Home ماحول پکار رہا ہے...! تصریحات : مولانا عطاء الرحمن وجدیؔ

ماحول پکار رہا ہے...! تصریحات : مولانا عطاء الرحمن وجدیؔ

ماحول پکار رہا ہے...!
تصریحات : مولانا عطاء الرحمن وجدیؔ

اگر چہ خون ناحق سے ظالموں کا دامن بار بار داغ دار ہوتا رہا ہے جس کے لئے کوئی وجہ جواز پیش نہیں کی جاسکتی۔ تہذیب و ترقی کے دعویداروں کے پاس ندامت اور شرمندگی کے سوا کوئی اور راہ نہیں ہے۔ ظلم و ستم کی بھیانک داستانوں کی تائید نہ کل کی جاسکتی تھی اور نہ آج کی جاسکتی ہے ۔ امن و ترقی کے جھوٹے دعویداروں نے گذشتہ دو عالمی جنگوں میں جو ستم ڈھائے ہیں ان پر بھی ندامت اور اظہار تأسف کے سوا کوئی چارہ نہیںہے ۔ مگر انسان نما درندوں اور ان کے جاں نشینوں نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی، اور آئندہ کے لئے کوئی مثبت رویہ اختیار نہیں کیا۔ آج بھی فریقین کے درمیان یہ کشمکش جاری ہے، اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑک کر انسانیت کو کب اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ خود کو بڑی طاقت کہلانے والوں نے اگر کچھ سبق سیکھا ہے تو صرف یہ کہ جنگ کا میدان یوروپ اور امریکہ کے بجائے ایشیا اور افریقہ کے کمزور و پسماندہ مگر زرخیز ملکوں کو بنایا جائے، تاکہ ان کے اپنے علاقے نقصانات سے محفوظ رہیں اور ممکنہ فائدے ان کے حصے میں آسکیں۔
.................
ایک ہزار سال سے زیادہ دنیا کی بڑی عالمی طاقت رہنے والی مسلم دنیا جو آج بھی واضح امکان کی حد تک ایک بڑی قوت کا درجہ رکھتی ہے ، یوروپ اور امریکہ کے نشانہ پر ہے۔ اور مستقبل قریب میں بہت سے خدشات اور نقصانات کا ہدف بن سکتی ہے۔ اس معنیٰ میں ایشیا اور افریقہ کے مسلم ممالک تیسری عالمی جنگ کے ایک اہم فریق ہوں گے جنہیں بہت سی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑیگا۔ سعودی عرب، شام ، سوڈان، مصر ، ایران، ترکی اور پاکستان وغیرہ کو برباد کرنے کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں۔ مستقبل میں بحر ہند اور بحر عرب کے ساحلوں کے رہنے والوں اور ان کی آئندہ نسلوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کھلے سمندروں میں آگ اور خون کی بارشوں میں وہاں کے رہنے والوں پر کیا گزرے گی اس کی تفصیل ناقابل بیان ہے۔ یہ سب کچھ ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے والوں کے ہاتھوں ہونے جارہا ہے۔ جن کی سربراہی ان کے سرخیل اور سرغنہ امریکہ کے حصے میں آئی ہے۔ جو تہذیب و ترقی اور امن کی مدعی یک قطبی (Unipolar)دنیا کی نگہبانی اور رہنما ئی کا سب سے بڑا دعویدارہے۔
.................
دور اندیشی اور باریک بینی سے کام لیا جائے تو افریقہ اور ایشیاء کے متعدد مسلم ممالک حالت جنگ میں مبتلا ہیںیا ان پر حالت جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ اور ایک کو دوسرے کے خلاف اس طرح لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے کہ وہ حالت جنگ کی مصیبت میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ جان و مال کے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگائیں تو سخت مشکلات سے دوچار یا قریب تر ہو سکتے ہیں۔ کشمیر، فلسطین اور سوڈان جیسے متعدد ملکوں میں جنگ کے شعلے کسی بھی وقت ماحول کو خاکستر بنا سکتے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں واقع متعدد مسلم ملکوں میں کہیں بھی اور کسی بھی وقت جنگ کی مصیبت طاری ہوسکتی ہے۔
بحالت موجودہ غیروں کی عیاری سے زیادہ پریشانی کا سامان اپنوں کی سادگی بنی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ تقریباً ایک صدی کے حالات سے ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی شکست سے لیکر آج تک ہم آگے بڑھنے کے بجائے پسپائی و پسماندگی سے دوچار ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی ایجاد جیسے استثناء کو چھوڑ کر یوروپ اور امریکہ کی عیاریوں کے جال میں ایک پیاسی مچھلی کی طرح پھنسنا و تڑپتے رہنا ہمارا مقدر بن کر رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کی صلاحیتیں اور ان کے ذرائع و وسائل ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ آرائی میں صرف ہو رہے ہیں۔ ہمیں آپس میں لڑانا ہمارے دشمنوں کا ایک آسان اور دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے۔ ہم مغرب کی سیاست کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے وسائل و ذرائع ہمارے ہی خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمارا متحد ہونا سب سے مشکل اور ہمیں باہم لڑانا سب سے آسان کام ہے۔ ہمارا ماحول زبان حال سے پکار رہا ہے ؎
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات (اقبالؔ)
#WahdatVision #Wahdat #Tasrihaat

 
 

 

Share: