Home تہذیب و ترقی کی مدعی ، ڈوبتی سسکتی دنیا

تہذیب و ترقی کی مدعی ، ڈوبتی سسکتی دنیا

تہذیب و ترقی کی مدعی ، ڈوبتی سسکتی دنیا

-تصریحات : مولانا عطاء الرحمن وجدیؔ

 

کسی بات کا مدعی ہونا اور اس کا اہل و مستحق ہونا علیحدہ علیحدہ حیثیتیں ہیں۔ دعویداری دلیل اور ثبوت کے بغیر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ دعویٰ بے دلیل ہو تو محض دعویٰ ہے جس کے قابل تسلیم ہونے کے لئے دلیل وثبوت اور شہادتوں کا پایا جانا لازم ہے۔ دلیل و ثبوت کے بغیر دعوے کو عقل و انصاف کے میزان میں ناقابل تسلیم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ہی معاملہ عہد حاضر کی کسی دعویداری کا بھی ہے۔ جن لوگوں کے ترقی یافتہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ،ان کا دعویٰ بھی دلیل و ثبوت کا محتاج ہے۔ ان کا حقیقت سے برائے نام تعلق ہے اور بعض کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بے لباسی، عریانیت اور بے حیائی کو بھی فی زمانہ ترقی یافتہ ہونے کے دلیل و ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کسی علاقہ میں کرفیو اور مارشل لا لگا کر حالات کے پرسکون ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہذیب و ترقی کے معنیٰ اوپر چڑھنے ،آگے بڑھنے اور بننے سنورنے کے ہیں، مگر انسانوں کی تہذیب اور ترقی کا مفہوم اس سے مزید اور وسیع تر ہے۔ کسی قوم کی معاشی ترقی محض مالدار ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے بارے میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے اور دیکھا جانا چاہئے کہ اس نے دولت کہاں سے اور کیسے حاصل کی ہے؟ لہٰذا کسی شخص کا محض مالدار ہو جانا اس کا ترقی یافتہ ہونا نہیں ہے ۔ چوری یا ڈاکہ زنی اور رشوت خوری کے ذریعہ حاصل شدہ دولت اس کی معاشی ترقی نہیں کہی جاسکتی۔ اسی طرح ظلم و استحصال کے واسطے سے جو طبقات یا قومیں معاشی ترقی کی دعویدار بنتی ہیں ان کا دعویٰ لائق تسلیم اور قابل قبول نہیں ہوتا۔ جور و ظلم کے ذریعہ دوسری قوموں پر مسلط ہونے والوں کی معاشی ترقی کی تصدیق بھی نہیں کی جاسکتی۔ البتہ جن قوموں اور طبقوں نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیا ہے ، ان کا معاملہ مختلف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ چند صدیوں سے جس طرح یورپ کے بحری قزاقوں نے ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کو اپنا معمول بنایا ہے اور جس کے نتیجہ میں یکے بعد دیگرے مقامی اور عالمی جنگیں دنیا کا مقدر بن کر رہ گئی ہیں، ان کے مجرمانہ کردار سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اور نہیں کیا جانا چاہئے۔ گذشتہ دو عالمی جنگوں (۱۸۔۱۹۱۴)اور (۴۵۔۱۹۳۹)کے بعد خود کو قیام امن کا مدعی کہنے والے لیگ آف نیشن اور یونائٹیڈ نیشن آرگنائزیشن UNOکے چہرے پر پڑے ہوئے رنگین نقاب ان کے چہروں کے داغوں کو نہیں چھپا سکتے۔ ایسا ہی معاملہ ان برائے نام آزاد ملکوں کا ہے جن کی آزادی و خودمختاری کی کوئی حقیقت نہیں رہ گئی ہے۔ یعنی جو سب کچھ ہیں مگر آزاد و خودمختار نہیں ہیں۔ افسوس کہ ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ملک اسی برائے نام آزادی و خودمختاری کے المیہ میں مبتلا ہیں۔ ان کی برائے نام حکمرانی محض فریب ہے۔ جس میں نہ صرف یہ خود مبتلا ہیں بلکہ اپنے عوام کو بھی مبتلا کر رہے ہیں۔ بالواسطہ حکمرانی کا یہ سلسلہ جب تک جاری رہے گا اس وقت تک افریقہ اور ایشیا کے بہت سے ملک خاص طور پر مسلم ملکوں کے لئے آزادی سے محرومی کی تکلیفیں اٹھانے کے علاوہ کوئی راہ کھلی نہیں ہے۔
اسلام اور مسلمانوں کو آزادی اور انصاف سے محروم رکھنے والی طاقتیں باہم اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ کسی قیمت پر افریقہ اور ایشیا کے مسلم ملکوں کو انصاف اور آزادی سے ہم کنار نہ ہونے دیا جائے۔ اس تلخ حقیقت کا ادراک اور اس فتنے کے سد باب کے لئے ہر ضروری اقدام وقت کا اولین تقاضہ ہے۔
گندم از گندم برویت جو ز جو
از مکافات عمل غافل مشو

Share: