• مسجدیں اور ہمارے بچے۔
    رمضان المبارک کی آمد ہی سے مسجدوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ لوگ مسجد سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ خاص... Read more

  • ہم فلسطین کے ساتھ ہیں!!!
    1948ءکو اسرائیل نامی ملک دنیا کے نقشے پر ابھر آیا ،یہ داداگیری اور بڑی طاقتوں کا کھیل تھا... Read more

  • بنارس کی’’گیان واپی مسجد ‘‘کہیں بابری مسجد نہ بن جائے
    بنارس ہندو مذہب کا اہم تیرتھ استھان ہے ،گھنی آبادی اور پتلی گلیاں اس کی پہچان ہے ،اسی گنج... Read more

  • تاریخ کا عمل جاری ہے
    رمضان میں سحر و افطار کی لذت سے ہمکنار ہونے والوں!!! ذرا فلسطین میں ہونے والے واقعات وہ حا... Read more

Campaign

IMG

شرک سے سمجھوتہ نہیں

Campaign - Aug 24 2019

شرک ایک ایسی برائی ہے جس سے اسلام کہیں بھی اور کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتا ،یہ ایسا ناقابل معافی جرم ہے کہ اگر اسی حالت پر انسان مر جاتا ہے تو خدا اس کی مغفرت نہیں کرے گا۔ شرک عظیم ترین گناہ ہے اور افسوسناک جہالت بھی یہ اندھیرا ہے اور روشنی اور اندھیرا ایک جگہ جمع نہیں ہوتے اسی لئے توحید اور شرک میں اتحاد نہیں ہو سکتا ،جہاں توحید ہے وہاں شرک نہیں رہتا جہاں شرک ہوگا وہاں توحید کا سوال نہیں۔ یہ بات بالکل صاف ہے کہ کہ توحید مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے اور شرک اس کی ضد ہے۔ اس لیے فطری اور قدرتی طور پر مسلمان شرک بیزار ہوتا ہے اور اسے ایسا ہونا ہی چاہیے اب ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مذہبی آزادی کے حق کو دستوری طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اسی کے تحت پتھروں ،درختوں ،دریاؤں اور جانوروں کی پوجا کرنے والوں پر قانونی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی تو آخر کس طرح خدائے واحد کی بندگی پر یقین رکھنے والوں کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ مشرکانہ خیالات اور افکار پر مبنی کسی گیت کو قوم و وطن کے نام پر قبول کرلیں ، اگر اپنے عقیدہ اور عمل کے معاملے میں ہندوستان کے شہری آزادہے تو کس منطق سے مسلمان کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ وطن کی خدائی کے تصور کو گلے لگا لے ، حالانکہ وہ اس کے عقیدہ توحید کی ضد ہے۔ اگر ایسا کرنا ہے تو ملکی دستور ،شہری حقوق اور جمہوریت کو دیش سے نکال دو اور کوئی ایسا دستور بناؤ جس میں من مانی کرنے کا حق کسی ایک طبقہ ایک پارٹی کو دے دیا گیا ہوں ،بصورت دیگر وندے ماترم جیسے گیت کو سب کے لئے لازم قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں سے وندے ماترم گانے کا مطالبہ کرنا اسلام دشمنی کے ساتھ ساتھ ملک دشمنی بھی ہے آخر کس ملک سے اس سے بڑی دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے باشندوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے اور ان کی آزادی سلب کر لی جائے۔

اقتباس : وندے ماترم کا مسئلہ (حب الوطنی یا شرک) 
از: محمد ساجد صحرائی

IMG
کیا تمام دہشت گرد ’’مسلمان ‘‘ہی ہوتے ہیں؟

عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 3شہروں کے گرجا گھروں میں اور 3 ہوٹلوں میں 8 بم بلاسٹ ہوئے جن میں حالیہ خبروں کے مطابق 321 جانیں گئیں ہے اور 400 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں ۔ حادثے کے خاتمے پر فوری مسلمانوں کی ایک جماعت جو غیر معروف ہے ’’نیشنل توحید جماعت ‘‘کا نام سرخیوں میں آچکا ہے ۔ بھارت کے ایجنسیوںنے تو اصل ماسٹر مائنڈ کا نام بھی اپنے خبروں میں شائع کر دیا ہے ،جبکہ سری لنکا کی حکومت نے کسی شخص کا نام لیا ہے اور نہ کسی جماعت اور تنظیم کا ۔ظاہر کی گئی خبروں میں ایک بدھسٹ کو برقعہ میں پکڑا گیا جس کی کمر پر بم بندھے ہوئے تھے ، کیا یہ شدت پسند بدھسٹوںکی کوئی کاروائی ہے ؟ جس میں عیسائیوں کو نشانہ بنانا اور الزام مسلمانوں کے سر دھردینا جیسی کوئی بات ہے ، بھارت میں بھی مالیگاؤں بلاسٹ ،اجمیردرگاہ بلاسٹ ،سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ ،جالنہ کی مسجد میں ہوئے بلاسٹ میں ’’دہشت گرد ‘‘ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے ،لیکن گرفتاریاں ساری جگہوں پر مسلمانوں کی ہی ہوئی جبکہ نقلی داڑھیاں، ٹوپیاں وغیرہ بھی پولیسی گرفت میں آئیں ہے ،لیکن یہ راز بھی بڑی دیر سے کھلا جبکہ ہیمنت کرکرے نے اپنی تفتیشی کارروائی میں ’’ہندو آتنکواد ‘‘کے چہرے کو بے نقاب کیا۔ دنیا میں 376 گروپس ہے جو دہشت گردی کی راہ کو اپنائے ہوئے ہے ان میں سے جو مسلمان شدت پسند گروپس ہے ان کی تعداد صرف 76 ہے۔

Campaign - Aug 24
IMG
حکومت کیا چاہتی ہے؟ NRC
نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز NRC اصل میں آسام میں بنگلہ بولنے والوں کو غیرملکی ثابت کرنے کے لیے بنوایا گیا تھا، اس رجسٹر میں 40 لاکھ سے زائد ایسے افراد کے نام درج کیے گئے ہیں جنہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہے۔
۔NRC کو پورے ملک کے لئے لاگو کرنے کا اشارہ پہلے ہی حکومت نے دے دیاہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر شہری کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ملک کا شہری ہے، اس کے دستاویزات اس کی شہریت کے ثبوت ہوں گے۔ اسام میں بنگلہ زبان بولنے والوں کی زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے، انہیں بنگلہ دیش کے نام پر شہریت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جو ہندو ہے انہیں "شرنارتھی" کہہ کر ملک کی شہریت دے دی جائیگی جبکہ مسلمانوں کو بنگلہ دیش زبردستی واپس بھجوایا جائے گا، NRC کچھ اسی طرح سے لانے کی کوشش کی جا رہی، ایسی ہی ایک حرکت ایل۔ کے۔ ایڈوانی کے زمانے میں بھی ہوئی تھی، ایک ٹرین بنگلہ زبان بولنے والے مسلمانوں سے بھری بنگلہ دیش کی جانب روانہ کی گئی تھی، لیکن بنگلہ دیش نے انہیں اپنے شہری کی حیثیت سے قبول نہ کیا اور وہ منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ 
موجودہ حکومت بڑی سرگرمی سے NRC کو سپریم کورٹ کے ذریعے لاگو کرنے میں عجلت پسندی سے کام لے رہی ہے، 31 اگست، 2019 کو سپریم کورٹ NRC کے ناموں کو حتمی شکل دینے جا رہا ہے۔ 2014 اور 2019 کے عام انتخابات کو دیکھا جائے تو "مسلم مکت سیاست" کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسی ضمن میں NRC کے ذریعے "مسلم مکت بھارت" کا منصوبہ بنایا جارہا ہے اور یہ عمل نہایت خاموشی سے جاری ہے۔ برما میں برمی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے انہیں غیر ملکی قرار دے دیا تھا۔ اسام میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے اور ممکن ہے پورے ملک کو اس عذاب سے دوچار ہونا پڑے۔ اس لیے دستاویزات کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے، اپنے آدھارکارڈ، الیکشن کارڈ، PAN کارڈ، اکاونٹس بک، اسکول، کالج و یونیورسٹی کے دستاویزات کو کو اپڈیٹ رکھیں۔ ناموں اور اس کی اسپیلنگ کا کریکشن ضرور کروالیں۔ بالخصوص بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ، ان کے والدین کے دستاویزات ٹھیک کرنے ضروری ہے۔
ملک کے حالات جس سمت جا رہے ہیں شاید ڈاکٹر ذاکر حسین، فخرالدین علی احمد، مولانا ابوالکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمود الحسن گنگوہی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خان، مرزا غالب و ذوق سے بھی ان کی شہریت کے ثبوت مانگے جائیں گے اور نہ ملنے پر ان کی قبروں کو بھی غیر ملکی قرار دے دیا جائے گا

 

Campaign - Aug 24

Article

IMG

رمضان کا استقبال کیسے کریں؟

Article - Aug 24 2019
  •  چاند دیکھ کر دعا کریں۔ سارے مہینے روزے رکھنے کا ارادہ کریں۔
  • قرآن کی تلاوت اور ترجمہ کم از کم ایک بار پورا کریں، جہاں قرآن اچھا پڑھا جاتا ہوں وہاں تراویح پڑھیں، 8 یا 12 رکعت پر بحث نہ کرے جو جس مسلک سے مطمئن ہوں اسے اختیار کریں۔
  • نماز تراویح کے بعد خلاصہ ٔقرآن کا اہتمام کریں۔
  • رمضان المبارک میں صلہ رحمی کا خاص اہتمام کریں۔
  • غریب رشتے داروں اور مستحقین تک ان کی ضروریات پہنچائیں۔
  • ’’ایمان و احتساب ‘‘کے ساتھ ’’شب قدر ‘‘کی تلاش کریں۔
  • خواتین کو کم سے کم خریداری کے لیے زحمت دیں، اس کے بجائے مرد حضرات بازار سے خریداری فرمائیں۔
  • اگر ہوسکے تو رمضان سے قبل یا پہلے عشرے میں ہی عید کی خریدی مکمل کر دیں۔
  • زکوۃ و صدقات نکالنے والے اہل خیر حضرات سے گزارش ہے کہ وہ زکوۃ،صدقہ ،خیرات و عطیات رمضان کے پہلے عشرے میں ہی نکال دے تاکہ غریبوں کو خریداری کے لیے آخری عشرے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
  • آخری عشرے میں انفرادی عبادتوں پر خصوصی توجہ دیں بالخصوص توبہ ،استغفار ،اعتکاف وغیرہ کا اہتمام کریں۔
  • نمازِجمعہ و نمازِتراویح وغیرہ میں نمازیوں کی تعداد کے بڑھنے سے انتظامی امور کا خاص خیال رکھیں ،دروازوں پر سیکیورٹی کا اہتمام کریں، ممکن ہو تو دروازوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائے۔
  • ٹرافک اور مانگنے والوں کو دروازے پر بھیڑ سے دور رکھنے کا اہتمام کرے۔
IMG
!!!گستاخی معاف

بچپن ابھی بوڑھا نہیں ہوا ہے ، تب ہی کی بات ہے کہ مسجدوں میں فوٹو نکالنا حرام کہا جاتا تھا اور ویڈیو کو مسجد میں داخلہ ممنوع تھا، اب دیکھا جا رہا ہے باضابطہ مساجد میں فوٹو لیے جاتے ہیں، ویڈیو بنائی جاتی ہے، فون میں لگے کیمرے سدا بیدار رہتے ہیں، زبانیں گنگ ہو گئیں ہیں۔ پہلے جو بات کہی جاتی تھی وہ صحیح تھی یا اب جو کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہے
مساجد میں دنیا کی بات کرنا جرم تھا، بابری مسجد کی بات بھی مسجد میں نہ ہونے دی جاتی تھی کیونکہ وہ سیاست کا مسئلہ تھا اور سیاست کی بات کرنا مساجد میں ممنوع تھا۔
لیکن اب جمعہ کے خطبے، علماء و ائمہ کے بیانات اور خصوصی اپیلیں، فہرست میں ناموں کا اندراج، ووٹ ڈالنے کی ترغیب، انفرادی و اجتماعی اجتہاد فرمائے جا رہے ہیں، فرض واجب، امانت و شہادت جیسی اصطلاحوں میں گفتگو سمجھائی جا رہی ہے، اس کے لیے بھی مساجد کے ممبر و محراب استعمال ہو رہے ہیں۔
گستاخی معاف! پہلے دانشوران، علماء و ائمہ صحیح فرماتے تھے یا آپ صحیح فرما رہے ہیں۔ اگر پہلے صحیح تھا اب غلط ہو رہا ہے اور اب صحیح ہے تو کیا پہلے غلط کہا جارہا تھا۔

Article - Aug 24
IMG
ازغلامی فطرت آزادرا رسوامکن

جب کسی انسان کا معدہ خراب ہوجاتا ہے تو اس کو اچھی غذا پسند نہیں آتی جب کسی قوم کا مزاج بگڑجاتا ہے تو اس کو خود اپنی بھلائی کی بات بھی اچھی نہیں لگتی ۔انسانی فطرت ہی کچھ ایسی رہی ہے کہ جب کوئی قوم مسلسل کسی راستے پر چلتی رہتی ہے تو وہ اسی کی عادی اور اسی کی خوگر ہوجاتی ہے وہی اس کا مزاج بنجاتا ہے اور وہی اس کی فطرت میں ڈھل جاتا ہے اگرچہ وہ راستہ کتنا ہی تنگ اور غیر معقول ہو کتنا ہی پرخطر اور ہلاکت خیز ہو اور کتنا ہی ذلت اور رسوائی کی غلاظتوں سے پر اور متعفن ہو ۔ہزار دلائل سے اس راہ کی ضلالت و مضرت کو ثابت کردیجئے مگر کوئی دلیل اور کوئی حجت اس کےفکر و ذہن کو اپیل نہیں کرسکتی ۔ اس کے نزدیک اس راستے کی صحت و صواب کےلئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس نے اس راستہ پر اپنے خود ساختہ مقتداوں اور پیشواؤں کو چلتے دیکھا ہے ۔ پھر اس کو اس راہ سے ہٹانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ ہزار ٹھوکریں کھاکر اور ذلت اور رسوائی کے ہزار مراحل سے گزر کر بھی وہ اسی راستے پر چلتی رہتی ہے اور کسی صورت اس کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی اس کو ہر دوسرا راستہ خواہ وہ کتنا ہی فطرت سے ہم آہنگ اور عقل کے قریب ہو اور کتنا ہی صاف سیدھا اور محفوظ تر ہو ایک اجنبی اور غیر مانوس راستہ معلوم ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں جب بھی کوئی خدا کا بندہ اس بھٹکی ہوئی قوم کو سیدھا راستہ دکھانے کےلئے اٹھا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کو اجنبی نگاہوں سے دیکھا گیا ہے بلکہ اس کو اپنی قوم کی طرف سے شدید مزاحمت اور سخت منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
فرعون نے پوری قوم کو اپنا غلام بنا رکھا تھا خود کو خدا کہلواتا تھا ،موسی علیہ السلام قوم کو فرعون کی غلامی اور اس کے مظالم سے نجات دلاکر ایک خدا کی بندگی (مکمل انسانی آزادی) اور دائمی خیرو فلاح کی طرف بلارہے تھے مگر فرعون کے ظلم کی چکی میں پس رہی قوم نے موسی علیہ السلام کے ذریعہ دئیے جانے والے آزادی کے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کردیا جبکہ یہ عین اس کی فطرت کی آواز تھی ۔کیوں کہ اب وہ غلامی کے رنگ میں پوری طرح رنگ چکی تھی اور اب اس کے اندر غلامی کے سوا کسی دوسری بات کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی تھی ۔
اہل مکہ اپنی تمام تر معاشرتی خرابیوں کے باوجود ایک آزاد فطرت اور خوددار قوم تھے مگر ایک طویل عرصہ سے شرک کے راستے پر چلتے چلتے وہ اصنام پرستی (مخلوق کی غلامی) کے ایسے خوگر ہوچکے تھے کہ اب ان کا ضمیر اس کے خلاف کوئی بات سننے اور ماننے پر آمادہ نہ تھا ۔ پیغمر انقلاب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو ایک بڑے اور دائمی خطرہ (آخرت کے عذاب) سے آگاہ کیا اور ان کو شرک کے راستے کو چھوڑ کر توحید کی طرف آنے کی دعوت دی تو عین فطرت انسانی سے ہم آہنگ نبی کی اس صدا پر اہل مکہ کا رد عمل بالکل غیر فطری اور غیر انسانی تھا ۔۔ چنانچہ انہوں کہا ۔ تبا لک یا محمد الھذا جمعتنا ۔ تیرا ناس ہو اے محمد ( نعوذ باللہ)کیا تونے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا ۔ پیغمر کی یہ آواز ان کے لئے ایک اجنبی اور غیر مانوس آواز تھی ۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا ۔۔ اجعل الالہتہ الہ واحدا ان لشیء عجاب * وانطلق الملء منھم ان امشوا واصبروا علی آلہتکم ان ھذا لشیء یراد * ؛؛ یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ یہ شخص تمام خداوں سے ہٹاکر ایک ہی خدا پر جمع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ چلو اپنے اپنے معبودوں پر جمے رہو یہ تو کوئی منظم اور سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے ۔ انسانی تاریخ میں دنیا کی غلام قوموں کا ہمیشہ یہی طرز عمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔
ہندوستان پر صدیوں تک فرمانروائی کرنے والی مسلمان قوم بھی ایک زندہ اور غیرت مند قوم تھی مگر دوسو سال کی پہہم غلامی نےاس کے دل و دماغ اور فکر و ضمیر پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے اور اب اس کا مزاج اس قدر بگڑ چکا ہے اور اس کا ضمیر اس قدر مضمحل ہوچکا ہے کہ کفر کی جس غلامی سے نجات کے لئے اس کےاسلاف نے دو صدیوں تک انگریز کے خلاف شدید جنگ لڑی تھی اور باطل کے جس نظام سے چھٹکارے کےلئے انہوں نے جان و مال کی بے مثال قربانیاں دی تھیں آج یہ قوم اسی کفر کی غلامی پر فخر کررہی ہے اور باطل کے اسی نظام کی محکومیت کو آزادیٔ اسلام کا نام دے رہی ہے ۔اب جمہوریت پر اس کا کامل ایمان ہے اب سیکولرازم اس کا پختہ عقیدہ ہے اب خلافت اسلامیہ کا نظریہ اس کے نزدیک ایک باطل نظریہ ہے اب اسلامی نظام اس کے نزدیک ایک ناپسندیدہ نظام ہے ۔اب اظہار علی الدین کلہ ۔ کے کوئی حقیقی معنی نہیں اب سورہ انفال اور سورہ توبہ کی کوئی عملی تفسیر نہیں ۔ اب تجارت و معیشت کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ۔ اب سیاست و حکومت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔اب اسلام کا ہر وہ حکم جو اس کی ہم وطن غیر مسلم اقوام کی طبیعتوں کو ناپسند اور گراں بار ہو اس کے نزدیک منسوخ ہوچکا ہے اور اب اس کا نام لینا بھی اس کے نزدیک کسی جرم سے کم نہیں ہے ۔۔
یہ اس قوم کی صورت حال ہے جس نے بحیثیت مسلمان اس ملک پر قریب آٹھ سو برس تک حکمرانی کی ہے اور آج اس کے طرز حیات کو سامنے رکھ کر اسلام کی تھوڑی بھی فہم رکھنے والا ایک شخص یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آج یہ قوم اپنے کردار و عمل سے جس اسلام کی ترجمانی کررہی ہے کیا یہ وہی اسلام ہے جو قرآن و سنت کی شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکر گئے ہیں ،کیا یہ وہی اسلام ہے جو صحابہ تابعین تبع تابعین اکابر امت اور اس کے اسلاف کے ذریعہ اس تک پہنچا ہے ؟اس قوم کے حالات زندگی کو سامنے رکھ کر تاریخ آزادی ہند کا مطالعہ کرنے والا ایک شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے ،کہ کیا یہی وہ آزادی ہے جس کے حصول کی خاطر ہمارے اسلاف نے انگریز کے خلاف قریب دوسو سال تک جنگ لڑی تھی ؟؟وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہاہے کہ آخر انگریز کی غلامی اور موجودہ آزادی کے درمیان وہ کونسی امتیازی حدود تھیں جنہیں ڈھانے کےلئے ہمارے اکابر نے سخت ترین جدوجہد کی تھی اور قید و بند کی ہولناک صعوبتیں برداشت کی تھیں ؟؟وہ سمجھ ہی نہیں پارہا ہے کہ آخر وہ کیا مقاصد تھے کہ جن کے حصول کی خاطر ان بزرگوں نے انگریز کے خلاف ٹکراو اور تصادم کی راہ اختیار کی تھی اور بے شمار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔اس کے ذہن کے اندر یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ جن مقاصد کے لئے جنگ آزادی لڑی گئی تھی وہ کس حد تک حاصل ہوئے ؟؟ یا پھر وہ حاصل ہوئے بھی یا نہیں ؟ وہ تشکیک کا شکار ہے کہ اس کے بزرگوں کا انگریز کے خلاف جنگ و جدل کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط ؟
جس انسان کے فکر و ذہن کے اندر زندگی کی کوئی حرارت موجود ہے اس کے لئے یقینا یہ زندہ سوالات ہوسکتے ہیں ۔مگر اب اس زوال یافتہ اور محکوم قوم کے نزدیک ان سوالات کی کوئی اہمیت نہیں ۔اب اسلاف کی تابناک تاریخ میں اس کے لئے روشنی کی کوئی کرن موجود نہیں ۔ اب اس کے بزرگوں کی وہ عظیم تاریخ اس کے لئے ایک داستان پارینہ بن چکی ہے ۔ اب ان سوالات پر گفتگو کرنے والا گنہگار ہے اب اسلاف کی سیرت پر بات کرنے والا مجرم ہے ۔اب غلامی کے مزاج میں پختہ تر کردینے والے نام نہاد رہنما اس کے پسندیدہ ہیرو ہیں اب غلامی کے پنجرے میں قومی تعمیر کی باتیں کرنے والے خودساختہ قائدین اس کے محبوب ترین مسیحا ہیں ۔یہ ہے ملت اسلامیہ ہند کی وہ نازک صورتحال جس میں بڑے بڑے ارباب علم و دانش اور بڑے بڑے اصحاب فکر و فہم بھی میدان عمل میں اتر نے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم ایسے نازک حالات میں کیا کرسکتے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہئیے ۔تو ہمیں سب سے پہلے اس کائنات میں بکھرے ہوئے ان پوشیدہ امکانات پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے جو ہر عسر میں یسر کی طرف رہنمائی کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور فساد میں ہمیشہ کچھ ایسے سلیم الفطرت افراد پائے جاتے رہے ہیں جن کے اندر حق اور سچائی کو جاننے سمجھنے اور اس کو قبول کرنے صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔یہی نفوس صالحہ اپنے وجود سے تاریکیوں کے پردوں کو چاک کرتے ہیں اور کسی نئی صبح کی نوید ثابت ہوتے ہیں ۔اور گاہے گاہے سہی لیکن بہرحال اس امت کےاندر بھی ابھی ایسے پاک طینت اور صالح طبیعت افراد موجود ہیں جو اس قوم کے موجودہ حالات پر فکر مند ہیں اور جن کے سینے کے اندر ایک کڑھن اور ایک بےچینی کا احساس پایا جاتا ہے ۔ہم انہیں منتشر نفوس کو آواز دینا چاہتے ہیں کہ وہ خدا کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرکے پردہ خفا سے باہر آئیں ۔ باہم مربوط ہوں ۔ ایک جگہ جمع ہوں ۔ حالات کے اشارات اور مضمرات کو سمجھیں ۔ اور ملت کی تعمیر نو کے لئے کوئی صحیح اور موثر لائحہ عمل طے کریں کہ یہی حالات کا تقاضا اور یہی وقت کی پکار ہے ۔

تحریر
محمد ہارون قاسمی ، (بلند شہر )
فون ، 9412658062

Article - Aug 24

News & Events

IMG
Interview On Triple Talaq Issue
- Jun 22 2019 01:00 PM - 02:00 PM

An interview of the head of Wahdat E Islami Maulana Rafiuddin Rafiq with the representative of Mumbai Urdu News

Maulana Ataa ur Rahman Saheb Wajdi is a member of all India Muslim personal law board and the head of Wahdat E Islami India and Babri Masjid committee belongs to the knowledge City of Saharanpur in Uttar Pradesh.

He is also an eminent Islamic writer and one of the many outspoken Islamic scholars of India who are playing an active role regarding the issues of Muslim community especially the reconstruction of Babri Masjid.

We are presenting his actual interview on the issues of Muslim community with the representative of Mumbai Urdu news Rafiuddin Rafiq during his visit to Aurangabad.

Mumbai Urdu News: What do you feel or Hold an opinion regarding the current situation of India?

Maulana Wajdi: probably, I think you mean by current situation is about increasing air of animosity and incitement against minorities especially Muslims. In this regard the situation has been deliberately worsen. Since a few years the masses who have got political control have failed in their duties. As India is a country where people following different religions and languages live have equal rights an increasing air of animosity and incitement is a matter of great concern. so it is abiding on everydutiful citizen to raise their voice especially minorities, of whom Muslims have a great share.

In such a situation, Muslims must also have to come forward and try to diminish the increasing air of animosity and incitement in a tactful way, to sum up the present situation is a matter of great concern.

Mumbai Urdu News: Maulana in an interview on the issue of triple talaaq you have said that the government and the honourable courts have no right to pass laws, Would you please justify?

Maulana Wajdi: We hold our opinion on the grounds that there exists a code of law in the Indian Constitution named The Muslim personal law on the issues concerning Sharia and it’s an open fact that the constitution protects it and interference in this law means interference in our religion so we justly say that no one has a right to interfere in it, The government has no say on the issue because it’s a constitutional law and the government has no right to go against it furthermore the Honorable Courts too have no right for the reason that the duty of the courts is to pass verdicts as per the laws rather than enacting them.

Mumbai Urdu News: On the issue of the attack of the masses in the name of cow protection what kind of course of action do you feel is necessary?

Maulana Wajdi: Unjust killing of a human being by the masses is a barbaric and terrorist act which oughted to be condemned from each and every point of view and proper steps must be taken against it. The government which fails to protect the lives and properties of the citizens has no right to retain power where as it’s also an issue of great concern on humanitarian grounds.

The right to life is the basic right and it is not granted in alms and it is not concessionary. So it’s the fore-most duty of the government to take stern and effective steps against those people who try to snatch away the right to life of others. As I have said before the government which fails to protect the lives and properties of the citizens has no right to retain power and if the government fails in its duty then every citizen must take charge of their duties and make effective efforts to secure the right to life

Mumbai Urdu News: What are the fronts do you feel Muslim community in India must strive to protect Islamic law.

Maulana Wajdi: There is a pressing need to strive on different fronts such as in the field of law, reformation of society and also in defending those false propaganda which are intentionally propagated. especially in the field of social law we have an exemplary law in the form of Islamic Sharia. We not only consider it as a law but a part and parcel of our religion and Faith! So, we must act according to it and solve our disputes and cases accordingly. instead of consulting the courts of law.

The logic behind it is we have seen in the recent past a case was intentionally lodged in the court on the issue of Muslim women and the government was asked to set laws on the issues of Muslim women where as the courts also passed verdicts beyond their powers. we remind the institutions enacting law not to enact such laws which are against the basic rights of the citizens and also the right protected by the constitution of India and for Muslims it is also a matter of religion and faith, and must take effective and tactful steps if any government or Court interfere in it.

Mumbai Urdu News: You are intimately connected with the Babri Masjid movement for a long time and constantly been demanding the reconstruction of the mosque, do you think the reconstruction is possible in the present situation? if so, will you please explain?

Maulana Wajdi: Yes, we have been demanding the reconstruction justly! it’s our firm stand that the status of mosque is permanent and can’t be changed, neither bought nor sold. So, Babri Masjid is a mosque and was in the past and will remain in future. Where as the question of it’s being impossible is deemed on the grounds of unfavourable circumstances is not proper. Reconstruction is not impossible but rather difficult and we must strive to solve this difficulty.

You know that if the reconstruction of Somnath Temple was possible after a thousand years, won’t the reconstruction of Babri Masjid be possible after a period of time. We shall wait till the time to come when the apparent impossible is being converted to possible.

Mumbai Urdu News: What message would you like to convey to the Muslim community?

Maulana Wajdi: Our message is the same on which we all have faith and that is the message of the Holy Quran

“Watasimoo Bi hablillaahi Jameeaa”

let’s all of us with-hold the Rope of Allah firmly and try to avoid discrimination and differences between us. And it’s the only message we have. In this context we urge Muslims to bring faith in a real sense instead of being formal which includes voiding fear of all others besides Allah.

Now a days on account of our differences and weakness the psychology of fear is being imposed on us aiming to lower our courage and we are entrapped in this propaganda. So, we hold our opinion that the fear of others besides Allah must be eradicated from our hearts, if only we have total faith the fear of others besides Allah will be eradicated. So, we try to educate people in the light of the Holy Quran to fear only with Allah and do away the fear of all others besides him.

Press Release

    وحدت کا میڈیا اورینٹیشن ورکشاپ اورنگ آباد میں

    وحدت کا میڈیا اورینٹیشن ورکشاپ اورنگ آباد میں

    اورنگ آباد___ موجودہ حالات میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پرنٹ میڈیا‘ الیکڑونک میڈیا کے علاوہ شوشل میڈیا نے اب سے زیادہ اثر ڈالنا شروع کردیاہے۔ معلومات کا جہاں تک سوال ہے اور ان معلومات میں نقطۂ نظر کی اہمیت ہے اس نے ہر دو ذرائع ابلاغ کی قدر و قیمت کو بڑھا دیا ہے۔ وحدتِ اسلامی ہنداپنے کارکنان کو حالات کے چلتے ذرائع ابلاغ کی کروٹوں سے بھی روشناس رکھنا چاہتی ہے۔ اس کی اہمیت ضرورت اور استعمال کے لئے وہ ایسے ورکشاپ منعقد کرتی ہے جس سے کارکنان میں جدید ضرورتوں اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ جہاں ذرائع ابلاغ کے بارے میں بنیادی معلومات کو لیکر رہنمائی کی جائیگی وہیں اس کے بہتر استعمال جس سے سماج میں اقدار فروغ پائیں سمجھانے کی کوشش اور اس کے لئے تیاری کی عملی شکلوں کو اختیار کیسے کیا جاسکتاہے بتلایا جائیگا۔ اس ورکشاپ میں اخباروں اور ذرائع ابلاغ سے جڑے ہوئے معروف صحافیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ جن سے رہنمائی حاصل کی جائیگی۔ اسی کے ساتھ وحدتِ اسلامی ہند کے مرکزی ذمّہ داران بھی اس میں شرکت فرمائینگے۔ معروف صحافی حضرات سے جو صحافت کے میدان میں لمبا تجربہ رکھتے ہیں ان سے خبریں کیسے بنتی ہیں‘ سوالات کیسے create کئے جاتے ہیں، اس کا جواب کتنا اور کیسے دیا جاتا ہے۔ صحافت کی تاریخ اور اس کے اثرات پر مشتمل عنوانات کو ورکشاپ کا حصّہ بنایا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو جہاں تعلیمی‘ معاشی‘ قانونی و سیاسی میدان کار میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کی ضرورت پر زور دیا جارہاہے ونہی ذرائع ابلاغ کے شعبہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر وحدتِ اسلامی ہندکے ذمّہ داران نے اپنے منتخب کارکنان کو جو اس شعبہ میں دلچسپی رکھتے ہیں رہنمائی کے لئے ورکشاپ میں شرکت کے لئے مدعو کیا ہے۔ یہ ورکشاپ 23تا25 اگست 2019ئ؁ تین روزہ ہے۔ جس میں ماہرین سے استفادہ کیا جائیگا۔ ورکشاپ کی اطلاع وحدتِ اسلامی مہاراشٹر کے نقیب شیخ بسم اللہ نے دی۔ پریس سیکریٹری Read more..

    Aug 22 09:00 AM