Campaign

IMG

شرک سے سمجھوتہ نہیں

Campaign - Aug 24 2019

شرک ایک ایسی برائی ہے جس سے اسلام کہیں بھی اور کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتا ،یہ ایسا ناقابل معافی جرم ہے کہ اگر اسی حالت پر انسان مر جاتا ہے تو خدا اس کی مغفرت نہیں کرے گا۔ شرک عظیم ترین گناہ ہے اور افسوسناک جہالت بھی یہ اندھیرا ہے اور روشنی اور اندھیرا ایک جگہ جمع نہیں ہوتے اسی لئے توحید اور شرک میں اتحاد نہیں ہو سکتا ،جہاں توحید ہے وہاں شرک نہیں رہتا جہاں شرک ہوگا وہاں توحید کا سوال نہیں۔ یہ بات بالکل صاف ہے کہ کہ توحید مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے اور شرک اس کی ضد ہے۔ اس لیے فطری اور قدرتی طور پر مسلمان شرک بیزار ہوتا ہے اور اسے ایسا ہونا ہی چاہیے اب ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مذہبی آزادی کے حق کو دستوری طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اسی کے تحت پتھروں ،درختوں ،دریاؤں اور جانوروں کی پوجا کرنے والوں پر قانونی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی تو آخر کس طرح خدائے واحد کی بندگی پر یقین رکھنے والوں کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ مشرکانہ خیالات اور افکار پر مبنی کسی گیت کو قوم و وطن کے نام پر قبول کرلیں ، اگر اپنے عقیدہ اور عمل کے معاملے میں ہندوستان کے شہری آزادہے تو کس منطق سے مسلمان کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ وطن کی خدائی کے تصور کو گلے لگا لے ، حالانکہ وہ اس کے عقیدہ توحید کی ضد ہے۔ اگر ایسا کرنا ہے تو ملکی دستور ،شہری حقوق اور جمہوریت کو دیش سے نکال دو اور کوئی ایسا دستور بناؤ جس میں من مانی کرنے کا حق کسی ایک طبقہ ایک پارٹی کو دے دیا گیا ہوں ،بصورت دیگر وندے ماترم جیسے گیت کو سب کے لئے لازم قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں سے وندے ماترم گانے کا مطالبہ کرنا اسلام دشمنی کے ساتھ ساتھ ملک دشمنی بھی ہے آخر کس ملک سے اس سے بڑی دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے باشندوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے اور ان کی آزادی سلب کر لی جائے۔

اقتباس : وندے ماترم کا مسئلہ (حب الوطنی یا شرک) 
از: محمد ساجد صحرائی

IMG
کیا تمام دہشت گرد ’’مسلمان ‘‘ہی ہوتے ہیں؟

عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 3شہروں کے گرجا گھروں میں اور 3 ہوٹلوں میں 8 بم بلاسٹ ہوئے جن میں حالیہ خبروں کے مطابق 321 جانیں گئیں ہے اور 400 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں ۔ حادثے کے خاتمے پر فوری مسلمانوں کی ایک جماعت جو غیر معروف ہے ’’نیشنل توحید جماعت ‘‘کا نام سرخیوں میں آچکا ہے ۔ بھارت کے ایجنسیوںنے تو اصل ماسٹر مائنڈ کا نام بھی اپنے خبروں میں شائع کر دیا ہے ،جبکہ سری لنکا کی حکومت نے کسی شخص کا نام لیا ہے اور نہ کسی جماعت اور تنظیم کا ۔ظاہر کی گئی خبروں میں ایک بدھسٹ کو برقعہ میں پکڑا گیا جس کی کمر پر بم بندھے ہوئے تھے ، کیا یہ شدت پسند بدھسٹوںکی کوئی کاروائی ہے ؟ جس میں عیسائیوں کو نشانہ بنانا اور الزام مسلمانوں کے سر دھردینا جیسی کوئی بات ہے ، بھارت میں بھی مالیگاؤں بلاسٹ ،اجمیردرگاہ بلاسٹ ،سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ ،جالنہ کی مسجد میں ہوئے بلاسٹ میں ’’دہشت گرد ‘‘ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے ،لیکن گرفتاریاں ساری جگہوں پر مسلمانوں کی ہی ہوئی جبکہ نقلی داڑھیاں، ٹوپیاں وغیرہ بھی پولیسی گرفت میں آئیں ہے ،لیکن یہ راز بھی بڑی دیر سے کھلا جبکہ ہیمنت کرکرے نے اپنی تفتیشی کارروائی میں ’’ہندو آتنکواد ‘‘کے چہرے کو بے نقاب کیا۔ دنیا میں 376 گروپس ہے جو دہشت گردی کی راہ کو اپنائے ہوئے ہے ان میں سے جو مسلمان شدت پسند گروپس ہے ان کی تعداد صرف 76 ہے۔

Campaign - Aug 24
IMG
حکومت کیا چاہتی ہے؟ NRC
نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز NRC اصل میں آسام میں بنگلہ بولنے والوں کو غیرملکی ثابت کرنے کے لیے بنوایا گیا تھا، اس رجسٹر میں 40 لاکھ سے زائد ایسے افراد کے نام درج کیے گئے ہیں جنہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہے۔
۔NRC کو پورے ملک کے لئے لاگو کرنے کا اشارہ پہلے ہی حکومت نے دے دیاہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر شہری کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ملک کا شہری ہے، اس کے دستاویزات اس کی شہریت کے ثبوت ہوں گے۔ اسام میں بنگلہ زبان بولنے والوں کی زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے، انہیں بنگلہ دیش کے نام پر شہریت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جو ہندو ہے انہیں "شرنارتھی" کہہ کر ملک کی شہریت دے دی جائیگی جبکہ مسلمانوں کو بنگلہ دیش زبردستی واپس بھجوایا جائے گا، NRC کچھ اسی طرح سے لانے کی کوشش کی جا رہی، ایسی ہی ایک حرکت ایل۔ کے۔ ایڈوانی کے زمانے میں بھی ہوئی تھی، ایک ٹرین بنگلہ زبان بولنے والے مسلمانوں سے بھری بنگلہ دیش کی جانب روانہ کی گئی تھی، لیکن بنگلہ دیش نے انہیں اپنے شہری کی حیثیت سے قبول نہ کیا اور وہ منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ 
موجودہ حکومت بڑی سرگرمی سے NRC کو سپریم کورٹ کے ذریعے لاگو کرنے میں عجلت پسندی سے کام لے رہی ہے، 31 اگست، 2019 کو سپریم کورٹ NRC کے ناموں کو حتمی شکل دینے جا رہا ہے۔ 2014 اور 2019 کے عام انتخابات کو دیکھا جائے تو "مسلم مکت سیاست" کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسی ضمن میں NRC کے ذریعے "مسلم مکت بھارت" کا منصوبہ بنایا جارہا ہے اور یہ عمل نہایت خاموشی سے جاری ہے۔ برما میں برمی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے انہیں غیر ملکی قرار دے دیا تھا۔ اسام میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے اور ممکن ہے پورے ملک کو اس عذاب سے دوچار ہونا پڑے۔ اس لیے دستاویزات کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے، اپنے آدھارکارڈ، الیکشن کارڈ، PAN کارڈ، اکاونٹس بک، اسکول، کالج و یونیورسٹی کے دستاویزات کو کو اپڈیٹ رکھیں۔ ناموں اور اس کی اسپیلنگ کا کریکشن ضرور کروالیں۔ بالخصوص بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ، ان کے والدین کے دستاویزات ٹھیک کرنے ضروری ہے۔
ملک کے حالات جس سمت جا رہے ہیں شاید ڈاکٹر ذاکر حسین، فخرالدین علی احمد، مولانا ابوالکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمود الحسن گنگوہی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خان، مرزا غالب و ذوق سے بھی ان کی شہریت کے ثبوت مانگے جائیں گے اور نہ ملنے پر ان کی قبروں کو بھی غیر ملکی قرار دے دیا جائے گا

 

Campaign - Aug 24

Article

IMG

بابری مسجد فیصلہ-- ایک جائزہ

Article - Nov 25 2019

بالآخر بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آہی گیا۔ یہ عدل نہیں، نہ انصاف ہے بلکہ سیاسی ظلم کا شاہکار ہے۔ آخر سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے طویل عرصے سے چل رہے سب سے حساس مسئلہ پر فیصلہ دیا ہے۔ آغاز میں یہ تاثر دیا تھا کہ کسی بھی فریق کی آستھا کے مطابق نہیں بلکہ حق ملکیت کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا۔ 

فیصلہ

(۱) متنازع زمین 77.2 ایکڑ رام للّا (ہندوؤں )کو دی جائے۔

(۲) حکومت ۳ ماہ میں ٹرسٹ بنائے اور مندر کی تعمیر ہو۔

(۳) مسلمانوں کو 5ایکڑ زمین ایودھیا میں دی جائے۔

اس فیصلہ کو جس بنیاد کی وجہ سے دیا گیا ہے اس کا ذکر بھی مختصراً ضروری ہے۔

(۱) ASIآثارِ قدیمہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

(۲) رام چبوترہ کو جنم استھان تسلیم کیا جانا۔

(۳) رام کی پیدائش کا ایودھیا میں ہونے کی آستھا جو ہندوؤں کی ہے۔

سپریم کورٹ نے شیعہ وقف بورڈ کے دعویٰ کو خارج کیا۔ اسکے بعد نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو غیر قانونی قرار دیا۔ سنی وقف بورڈ کو بھی خارج کر دیا۔ اب جو باقی بچا تھا وہ ’’رام للّا براجمان‘‘ اسے باقی رکھا اور اس کے حق کو تسلیم کر لیا گیا۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے جو فیصلہ 2010ء میں دیا تھا اس کی بنیاد ہی ASIکی رپورٹ تھی۔ جس میں کئی چیزیں تھیں جس پر Objection لیا جانا چاہئے تھا لیکن اس پر Objectionنہیں لیا گیا۔ ان ہی کو سپریم کورٹ نے آدھار بنا ڈالا۔ مثلاً کھدائی میں بابری مسجد کے نیچے پرانے Structureکو بتلایا گیا ہے کہ وہ ہندو مندر جیسا ہے۔ جبکہ وہ بدھ وہار کی تعمیرات بھی ہوسکتی ہیں۔ مورتیوں کے ٹکڑے اور سنسکرت لکھی ہوئی پلیٹیں، اسکے علاوہ ہڈیاں، انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے بھی برآمد ہوئے ہیں لیکن ’’ہندو مندر جیسا‘‘ کو آدھار بنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 1857 سے قبل مسجد میں نماز پڑھنے یا پڑھانے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ جبکہ مسجد مل جل کر نماز پڑھنے کے لئے ہی بنائی جاتی ہے۔ 1857کا دور مسلم دور تھا ۔ کیسے ممکن ہے کہ وہاں نماز نہ ہوتی ہو؟

علی الرغم فیصلے کے سپریم کورٹ نے کچھ Observationبھی کوٹ کئے ہیں۔ جنکا فیصلے میں خیال نہیں کیا گیا۔

(۱) بار بار ’’مسجد‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ (کم از کم 3 1بار) اور آخر میں اسکی زمین ہندوؤں کو دے دی گئی۔

(۲) مسجد کی عمارت کے وجود کو تسلیم کیا گیا۔

(۳) مسجد کے اندرونی حصہ میں نماز پڑھی جانے کو بطور ثبوت تسلیم کیا گیا ہے۔ بالخصوص 1857 سے 1949 تک۔

(۴) ۲۲۔۲۳؍دسمبر ۱۹۴۹ء کی درمیانی رات کو مورتیاں لاکر رکھی گئی تھیں۔ FIRوغیرہ کو On Record لیا گیا اور اِسے جرم کہا گیا۔ 

(۵) ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ءکو کار سیوکوں نے مسجد شہید کی اس جرم کو بھی تسلیم کیا گیا ، اسے بھی Recordپر لایا گیا۔

(۶) ASIرپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ صاف کر دیا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

ان تمام سچائیوں کو ریکارڈ پر لانے کے باوجود سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو ان کی مسجد و زمین سے بے دخل کر دیا۔ قانون کے ماہرین یہ بتلا رہے ہیں کہ ایسا کورٹ نے دفعہ 142 کے ذریعہ حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کیا اور یہ فیصلہ دیا۔ کیا اتنے سارے شواہد و ثبوت کی روشنی میں دفعہ 142 کے ذریعہ سپریم کورٹ ایک بنیادی حق سے مسلمانوں کو محروم کر سکتا ہے؟ اس فیصلے کے خلاف دانشوروں ، سابق ججوں، وکیلوں اور ماہرین نے زور دار آوازیں بلند کرنی شروع کر دی ہیں۔ممکن ہے یہ صدائیں بڑھ کر زبردست احتجاج میں تبدیل ہو جائیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ اب مسلمانوں نے بھی اس فیصلہ پر سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ کیرالہ اور دہلی میں عملاً احتجاج بھی ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان آوازوں میں اپنی آواز ملانی چاہئے اور وقت کے اس پہر کو غنیمت جاننا چاہئے۔ 

مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیت العلماء ہند و غیرہم کو نظر ثانی کی اپیل میں جانا چاہئے اور 5 ایکڑ زمین کو یکسر مسترد کر دینا چاہئے۔ کیونکہ مسجد کے بدل میں 5 ایکڑ کیا 50 ہزار ایکڑ زمین بھی نہیں لی جاسکتی۔ اگر بابری مسجد کے بدل میں کچھ بھی قبول کیا جائیگا تو وہ دین و شریعت کے خلاف ہوگا۔

عدالت کے اس فیصلے نے بابری مسجد کے سامنے خود سپریم کورٹ کو کھڑا کر دیا ہے اور نفس مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ یہاں سے اسکی شروعات ہو رہی ہے۔

مسلمانوں کو 6 دسمبر کو پوری مضبوطی اور سنجیدگی سے یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ بابری مسجد کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔اور اسے دہراتے رہنا چاہئے تاکہ یہ ظلم صدا یاد رہے۔ زخم ہرے رہیں اور اس سے رستا ہوا مواد یہاں کے حکمرانوں ، انصاف کرنے والوں اور نظام چلانے والوں کی گندی ذہنیت کی عکاسی کرتا رہے۔

یہ فیصلہ ثبوتوں اور دلائل پر نہیں ہندوؤں کی آستھا پر دیا گیا ہے۔ اس لئے مسلمان اسے مسترد کرتے ہیں۔ 

 

ضیاء الدین صدیقی-اورنگ آباد

IMG
تہذیب و ترقی کی مدعی ، ڈوبتی سسکتی دنیا

تہذیب و ترقی کی مدعی ، ڈوبتی سسکتی دنیا
-تصریحات : مولانا عطاء الرحمن وجدیؔ

 

کسی بات کا مدعی ہونا اور اس کا اہل و مستحق ہونا علیحدہ علیحدہ حیثیتیں ہیں۔ دعویداری دلیل اور ثبوت کے بغیر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ دعویٰ بے دلیل ہو تو محض دعویٰ ہے جس کے قابل تسلیم ہونے کے لئے دلیل وثبوت اور شہادتوں کا پایا جانا لازم ہے۔ دلیل و ثبوت کے بغیر دعوے کو عقل و انصاف کے میزان میں ناقابل تسلیم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ہی معاملہ عہد حاضر کی کسی دعویداری کا بھی ہے۔ جن لوگوں کے ترقی یافتہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ،ان کا دعویٰ بھی دلیل و ثبوت کا محتاج ہے۔ ان کا حقیقت سے برائے نام تعلق ہے اور بعض کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بے لباسی، عریانیت اور بے حیائی کو بھی فی زمانہ ترقی یافتہ ہونے کے دلیل و ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کسی علاقہ میں کرفیو اور مارشل لا لگا کر حالات کے پرسکون ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہذیب و ترقی کے معنیٰ اوپر چڑھنے ،آگے بڑھنے اور بننے سنورنے کے ہیں، مگر انسانوں کی تہذیب اور ترقی کا مفہوم اس سے مزید اور وسیع تر ہے۔ کسی قوم کی معاشی ترقی محض مالدار ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے بارے میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے اور دیکھا جانا چاہئے کہ اس نے دولت کہاں سے اور کیسے حاصل کی ہے؟ لہٰذا کسی شخص کا محض مالدار ہو جانا اس کا ترقی یافتہ ہونا نہیں ہے ۔ چوری یا ڈاکہ زنی اور رشوت خوری کے ذریعہ حاصل شدہ دولت اس کی معاشی ترقی نہیں کہی جاسکتی۔ اسی طرح ظلم و استحصال کے واسطے سے جو طبقات یا قومیں معاشی ترقی کی دعویدار بنتی ہیں ان کا دعویٰ لائق تسلیم اور قابل قبول نہیں ہوتا۔ جور و ظلم کے ذریعہ دوسری قوموں پر مسلط ہونے والوں کی معاشی ترقی کی تصدیق بھی نہیں کی جاسکتی۔ البتہ جن قوموں اور طبقوں نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیا ہے ، ان کا معاملہ مختلف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ چند صدیوں سے جس طرح یورپ کے بحری قزاقوں نے ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کو اپنا معمول بنایا ہے اور جس کے نتیجہ میں یکے بعد دیگرے مقامی اور عالمی جنگیں دنیا کا مقدر بن کر رہ گئی ہیں، ان کے مجرمانہ کردار سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اور نہیں کیا جانا چاہئے۔ گذشتہ دو عالمی جنگوں (۱۸۔۱۹۱۴)اور (۴۵۔۱۹۳۹)کے بعد خود کو قیام امن کا مدعی کہنے والے لیگ آف نیشن اور یونائٹیڈ نیشن آرگنائزیشن UNOکے چہرے پر پڑے ہوئے رنگین نقاب ان کے چہروں کے داغوں کو نہیں چھپا سکتے۔ ایسا ہی معاملہ ان برائے نام آزاد ملکوں کا ہے جن کی آزادی و خودمختاری کی کوئی حقیقت نہیں رہ گئی ہے۔ یعنی جو سب کچھ ہیں مگر آزاد و خودمختار نہیں ہیں۔ افسوس کہ ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ملک اسی برائے نام آزادی و خودمختاری کے المیہ میں مبتلا ہیں۔ ان کی برائے نام حکمرانی محض فریب ہے۔ جس میں نہ صرف یہ خود مبتلا ہیں بلکہ اپنے عوام کو بھی مبتلا کر رہے ہیں۔ بالواسطہ حکمرانی کا یہ سلسلہ جب تک جاری رہے گا اس وقت تک افریقہ اور ایشیا کے بہت سے ملک خاص طور پر مسلم ملکوں کے لئے آزادی سے محرومی کی تکلیفیں اٹھانے کے علاوہ کوئی راہ کھلی نہیں ہے۔
اسلام اور مسلمانوں کو آزادی اور انصاف سے محروم رکھنے والی طاقتیں باہم اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ کسی قیمت پر افریقہ اور ایشیا کے مسلم ملکوں کو انصاف اور آزادی سے ہم کنار نہ ہونے دیا جائے۔ اس تلخ حقیقت کا ادراک اور اس فتنے کے سد باب کے لئے ہر ضروری اقدام وقت کا اولین تقاضہ ہے۔
گندم از گندم برویت جو ز جو
از مکافات عمل غافل مشو

Article - Oct 28
IMG
رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
  •  چاند دیکھ کر دعا کریں۔ سارے مہینے روزے رکھنے کا ارادہ کریں۔
  • قرآن کی تلاوت اور ترجمہ کم از کم ایک بار پورا کریں، جہاں قرآن اچھا پڑھا جاتا ہوں وہاں تراویح پڑھیں، 8 یا 12 رکعت پر بحث نہ کرے جو جس مسلک سے مطمئن ہوں اسے اختیار کریں۔
  • نماز تراویح کے بعد خلاصہ ٔقرآن کا اہتمام کریں۔
  • رمضان المبارک میں صلہ رحمی کا خاص اہتمام کریں۔
  • غریب رشتے داروں اور مستحقین تک ان کی ضروریات پہنچائیں۔
  • ’’ایمان و احتساب ‘‘کے ساتھ ’’شب قدر ‘‘کی تلاش کریں۔
  • خواتین کو کم سے کم خریداری کے لیے زحمت دیں، اس کے بجائے مرد حضرات بازار سے خریداری فرمائیں۔
  • اگر ہوسکے تو رمضان سے قبل یا پہلے عشرے میں ہی عید کی خریدی مکمل کر دیں۔
  • زکوۃ و صدقات نکالنے والے اہل خیر حضرات سے گزارش ہے کہ وہ زکوۃ،صدقہ ،خیرات و عطیات رمضان کے پہلے عشرے میں ہی نکال دے تاکہ غریبوں کو خریداری کے لیے آخری عشرے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
  • آخری عشرے میں انفرادی عبادتوں پر خصوصی توجہ دیں بالخصوص توبہ ،استغفار ،اعتکاف وغیرہ کا اہتمام کریں۔
  • نمازِجمعہ و نمازِتراویح وغیرہ میں نمازیوں کی تعداد کے بڑھنے سے انتظامی امور کا خاص خیال رکھیں ،دروازوں پر سیکیورٹی کا اہتمام کریں، ممکن ہو تو دروازوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائے۔
  • ٹرافک اور مانگنے والوں کو دروازے پر بھیڑ سے دور رکھنے کا اہتمام کرے۔
Article - Aug 24

News & Events

IMG
سمینار بعنوان بابری مسجد فیصلہ! ایک جائزہ.
Event - Dec 06 07:01 - 09:30
بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے ،اس فیصلے کے جائزے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔بھارت کی عدالتی تاریخ کا سب سے قدیم اور سب سے حساس مسئلہ کا یوں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے بہت ساری سچائیوں کو اجاگر کیا ہے لیکن حتمی فیصلہ فریق مخالف کے حق میں دے گیادیا ہے ۔ان سچائیوں کو سمجھنے اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔بعض ماہرین قانون ،سابق جج صاحبان ،بڑی عدالتوں کے وکلاء ،انصاف پسند دانشور اور بالخصوص مسلمان اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔ مسجد کا شرعی مسئلہ ہمارے لئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔جب کوئی اراضی ایک مرتبہ مسجد قرار دے دی جائے وہ ہمیشہ مسجد رہتی ہے ،چاہے اس کی ظاہری شکل و صورت کیوں نہ بدل جائے ۔اس اعتبار سے بابری مسجد ‘مسجد تھی ،مسجد ہے اور انشاءاللہ مسجد ہی رہیگی، اس موقف کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔سپریم کورٹ میں دستاویزات ، ثبوتوں اور دلائل کی بنیاد پر نہیں بلکہ آستھا کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا ہے، جس سے مسلمان شدید ناراض ہیں ۔
مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد نے 6؍دسمبر 2019  بروز جمعہ ، شام 7بجے مولانا آزاد ریسرچ سنٹر ،مجنوں ہل ،اورنگ آباد میں ایک سمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا عنوان ’’بابری مسجد فیصلہ -ایک جائزہ ‘‘ہے۔ اس سمینار میں مسجد کی شرعی حیثیت ، بابری مسجد کی تاریخی حیثیت اور سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور اس کا جائزہ ان عنوانات کے تحت ماہرین قانون اور ماہرین شریعت اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں گے ۔ مسلم نمائندہ کونسل کے صدر اور اراکین نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم اجلاس میں مع احباب شریک ہوں ،کیونکہ ’’یاد رکھنا دفاع کا پہلا قدم ہے ۔‘‘
 
IMG  
ممبئی میں وحدت اسلامی کا سیمینار بعنوان " بابری مسجد فیصلہ - ایک جائزہ
 
ممبئی کے مراٹھی پترکار سنگھ میں وحدت اسلامی (ممبئی یونٹ) کی جانب سے "بابری مسجد فیصلہ - ایک جائزہ" کے عنوان کے تحت سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا ۔
جناب کولسے پاٹل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر رام یا رحیم کے حق میں نہ ہوتے ہوئے نیشنل مونومینٹ کے حق میں ھوتا تو سب کو قابلِ قبول ہوتا ۔ تمام ہندو برے نہیں ہے ، بلکہ چند منو وادی ہے جو ورن ویوستھا کا سسٹم لانا چاہتے ہیں ۔ ہم سب کا DNA ایک ہے جبکہ باہر سے آئے ہوئے برہمن ہے وہ باہر کے شہری ہیں ۔  حالیہ فیصلے کا بیس صرف منووادی ہے ۔ یہ نیائے نہیں ہے بلکہ صرف فیصلہ ہے ۔
 
 آپ اگر ان سے دوستی کرے تو بھی یہ آپ کو مارنے والے ہی ہے ، کیوں نہ ہم لڑ کر مرے ۔ 
 
یوسف مچھالہ صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ دراصل وہ مقدمہ ہے جو مسجد گرانے والوں کے حق میں ہوا ہے، اور مسجد گرانے والوں کی فتح ہے ۔ ہار ہمارے جسٹس سسٹم کی ہوئی ہے قانونی بھی اور اخلاقی بھی ۔ اس فیصلے میں صاف لکھا گیا ہے کہ 1528 کا جو ڈھانچہ تھا وہ مسجد تھی ، جسے 1992 میں ڈھایا گیا ۔  یہ وہی لوگ ہے جو آج مندر بنانے کے لئے ٹرسٹ بنا کر اجازت چاہ رہے ہیں ۔ آستھا کو بھی مان لیا جائے تو کورٹ کا یہ کہنا کہ 1857 تک وہاں نماز کا ثبوت نہیں ہے ، کتنی معصومانہ اور احمقانہ بات ہے ، کیا مساجد ڈیکوریشن کے لئے بنائی جاتی ہے ؟  ہم سپریم کورٹ کا دروازہ پھر کھٹکھٹا رہے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں ۔ کچھ لوگوں نے اس فیصلے کو خوش آمدید کیا صرف امن و شانتی کے لئے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مستقبل میں کئی جگہوں کی آگے آپ کو قربانی دینی پڑ سکتی ہے ۔ امن وامان بنائے رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہم پر جو الزام تھا کہ ہم نے مندر توڑ کر مسجد بنائی وہ خود بخود منہدم ہو گیا اور سپریم کورٹ نے مانا کہ مسجد توڑ کر مندر بنایا جائے گا ۔ ہماری قانونی ہار ہوئی ہے مگر اخلاقی فتح ہماری ہی ہے ، ہمیں مایوس نہیں ہونا ہے ۔
 
جناب سلیم خان صاحب نے فرمایا کہ عدالت پر جو دباؤ ہوتا ہے اسے ہم نے اس فیصلہ میں محسوس کیا ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ آبزرویشن کوئی اور کر رہا ہے اور فیصلہ کوئی اور لکھ رہا ہے ۔  سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ 1528 سے 1857 تک مسجد تھی مگر نماز کا ثبوت نہیں ہے ، ایسا ہی ہے کہ ٹرین تھانے اور ممبئی کے درمیان چلی مگر ڈرائیور کے بارے میں کوئی خبر نہیں ۔ مسجد کو ڈھانے والوں کے لئے سزا بھی ضروری ہے ، جس کے لئے ہمارے قائدین کو آخر تک لڑنا ہوگا ۔ آخری بڑی عدالت ابھی باقی ہے ،جہاں ظلم نہ ہوگا ، ان شاءاللہ ۔
 
جناب ضیاالدین صدیقی صاحب نے فرمایا کہ جن لوگوں نے مسجد توڑی ہے انھی لوگوں کو مندر کے ٹرسٹ میں شامل کیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہمارے جسموں پر تو نافذ ہو سکتا ہے مگر ہمارے دلوں پر نہیں ۔ سپریم کورٹ خود بابری مسجد کی عدالت میں کھڑی ہے ۔ مغلوں ، اودھ اور برٹش حکومتوں کے اخراجات کے گوشوارے موجود ہیں ، مسلمانوں کو کسی ثبوت کے دینے کی  ضرورت نہیں ۔ ہم نے اس فیصلے کو برداشت کیا اور لا اینڈ آرڈر کو ملحوظ رکھا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری خاموشی کا امتحان لیا جائے ۔ رام للا کو ہم نے تسلیم کیا یہ ہماری غلطی رہی ۔ سولہویں صدی تک ایودھیا کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا تو ہم نے اس کے وجود کو تسلیم ہی کیوں کیا ؟؟ ہم نے تاریخ میں اگر غلطی کی ہے تو ہم نے اس سے رجوع بھی کیا ہے ۔
 
صدارتی گفتگو میں مولانا ابو ظفر ندوی صاحب نے فرمایا کہ آپ یہ کیوں یہ سمجھتے ہےکہ یہ آخری فیصلہ ہے، تاریخ میں غلطياں ہوتی ہے مگر تاریخ اپنی اصلاح بھی کرتی ہے ۔ لوٹ و غنڈہ گردی چند لوگ کرتے ہیں مگر لاکھوں شرفاء کہاں غائب رہتے ہیں ۔ بابری مسجد نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے ۔ یہ فیصلہ انسانیت کی توہین ہے ۔  بڑی بڑی تہذیبیں آئی اور ختم ہوگئی ۔ کسی چیز کو پانے کے لئے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ۔

 

Dec 05
IMG  
بابری مسجد: مسلم پرسنل لا بورڈ داخل کرے گا نظر ثانی کی درخواست

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی ) نے اتوار کو فیصلہ کیاہےکہ وہ ایودھیا زمینی تنازعہ سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دیتے  ہوئے نظر ثانی کی درخواست داخل کریں گے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں اے آئی ایم پی ایل بی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔

اے آئی ایم پی ایل بی کے ممبر ایس کیوآر الیاس نے میٹنگ کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے ریویو پیٹنشن دائرکرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہامسجد والی زمین کے علاوہ  ہم کسی اور زمین کو قبول نہیں کر سکتے ہیں۔ اس لیے دی گئی زمین قبول نہیں کی جائےگی۔‘‘

اے آئی ایم پی ایل بی کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ’’شرعی وجہوں سے دوسری جگہ پر مسجد کی زمین قبول نہیں کریں گے۔ ہمیں وہی زمین چاہیے، جس کے لیے لڑائی لڑی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی تضاد ہیں۔ جب باہر سے لاکر مورتی رکھی گئی تو انہیں دیوتا کیسے مان لیا گیا؟ جنم استھان کو قانونی فرد نہیں مانا جا سکتا۔ گنبد کے نیچے جنم استھان کا ثبوت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے مانا ہے کہ وہاں نماز پڑھی جاتی تھی۔ ہمیں 5 ایکڑ زمین نہیں چاہیے۔ 30 دن کے اندر ریویو فائل کرنی ہوتی ہے، جو ہم کر دیں گے۔‘‘

ایک دوسرے فریق اقبال انصاری کے بارے میں پوچھے جانے پر ظفریاب جیلانی نے الزام لگایا کہ اقبال انصاری پر ضلع اور پولیس انتظامیہ دباؤ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا ’’اقبال انصاری اس لیے ریویو کی  مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انتظامیہ اور پولیس کا ان پر دباؤ ہے۔ لکھنؤ ضلع انتظامیہ  نے ہمیں بھی میٹنگ  کرنے سے روکا اس لیے ہمیں آخری وقت  پر جگہ بدلنی پڑی۔ پہلے یہ میٹنگ ندوہ کالج میں ہونی تھی لیکن بعد میں اس کوممتاز کالج میں کرنا پڑا۔‘‘

اس بیچ جمعیت علماے ہند نے بھی ایودھیامعاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کوچیلنج  دینے کے لیےنظر ثانی کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیت کےصدر ارشد مدنی نے اس کی جانکاری دی۔ یہ فیصلہ اتوار کو جمعیت کی ورکنگ کمیٹی  کی میٹنگ میں لیا گیا، جس نے ریویو پٹیشن  دائر کرنے کے لیے اپنی منظوری دے دی۔ جمعیت نے جمعہ کو فیصلے میں ایک ریویو پٹیشن دائر کرنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی  کی تشکیل  کی تھی۔

خبررساں ایجنسی اے این آئی  کے مطابق مدنی نے کہا ’’اس سچائی کے باوجود جوکہ ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ ہماری عرضی 100 فیصدی خارج کر دی جائےگی، ہمیں عرضی  دائر کرنی چاہیے۔ یہ ہمارا حق ہے۔‘‘ مدنی نے جمعرات کو فیصلے کو چونکانے والا بتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اتر پردیش سنی وقف بورڈ کا خصوصی اختیار  تھا کہ وہ 5 ایکڑ زمین کو قبول  کرے یا نہ کرے۔ حالانکہ جمعیت کی ورکنگ کمیٹی  کا فیصلہ تجویز کو رد کرنے کا تھا کیونکہ اس طرح کے عطیہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا ’’ایک بار ایک مسجد کی تعمیر کے بعد وہ آخر تک ایک مسجد رہتی ہے۔ تو بابری مسجد تھی، ہے اور مسجد رہےگی۔ حالانکہ اگر سپریم کورٹ نے کہا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑنے کے بعد بنائی گئی تھی تو ہم اپنا دعویٰ چھوڑ دیں گے۔ اس کے علاوہ اگر ہمارے پاس دعویٰ نہیں ہے تو ہمیں زمین کیوں دی جائے؟ یہی وجہ  ہے کہ یہ سپریم کورٹ  کا ایک چونکانے والا فیصلہ ہے۔‘‘

وہیں ہندو مہاسبھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں صرف مقدمے میں شامل فریق  ہی ریویو پٹیشن داخل کر سکتے ہیں۔ بورڈ اس معاملے میں پارٹی نہیں ہے، اس لیے اس کو  عرضی داخل کرنے کاحق  نہیں ہے۔

اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے وکیل ورن سنہا نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ ایودھیا تنازعہ  میں فریق  نہیں ہے، اس لیے اس کو سپریم کورٹ میں ریویو داخل کرنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا صرف معاملے سے متعلق  فریق  ہی ریویو داخل کر سکتے ہیں۔ اے آئی ایم پی ایل بی اس معاملے میں فریق  نہیں ہے۔ اس معاملے میں سنی وقف بورڈ فریق  ہے اور ریویو داخل کرنے کے بارے میں صرف وہی فیصلہ لے سکتا ہے۔

اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے وکیل ورن سنہا نے سپریم کورٹ کےفیصلے میں غلطیاں ہونے کی بات بھی خارج کی۔

واضح ہو کہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد زمینی تنازعہ  پر اتفاق رائے سےفیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ  زمین پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندوفریق  کو زمین دینے کو کہاتھا۔ ایک صدی سے زیادہ  پرانے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کو 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق ملےگا۔ وہیں سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائےگی۔

مندربنانےکے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر ٹرسٹ بنانا ہوگا اور اس ٹرسٹ میں نرموہی اکھاڑا کا ایک ممبر شامل ہوگا۔عدالت  نے کہا کہ متنازعہ 2.77 ایکڑ زمین اب مرکزی حکومت  کے  پاس رہےگی جو اس کو سرکارکے ذریعے بنائے جانے والے ٹرسٹ کو سونپےگی۔

(ایجنسیاں)

Nov 17

Press Release