Home Article حافظِ قرآن محمد مرسیؒ کی زندگی پر ایک نظر
Article

حافظِ قرآن محمد مرسیؒ کی زندگی پر ایک نظر

مصر کی جدید تاریخ کے پہلے غیر فوجی اور جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے کے حافظِ قرآن و عالمِ دین ،  عالم اسلام کے عظیم قائد، مصر کےصدر جمہوریۂ اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسیؒ 20 اگست 1951 میں دریائے نیل کے کنارے واقع شرقیہ صوبے کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے اور قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ(پی ایچ ڈی)کی ڈگری حاصل کی۔
انھوں نے سنہ 1970 کے عشرے میں قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ چلے گئے تھے۔مصر واپسی پر وہ زقازیق یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے شعبے کے سربراہ تعینات ہوئے۔
مرحوم مرسیؒ نے1980 میں یونیورسٹی آف ساؤدرن سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نارتھرج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے۔
محمد مرسیؒ 1985 میں وطن واپس پہنچے اور تدریس کے ساتھ سیاسی سفر کا بھی آغاز کیا اور 2000 سے 2005 کے دوران اخوان المسلمین کے ممبر بھی رہے۔
2005 کے انتخابات میں شکست کے باوجود سابق صدر نےاپنی جدو جہد جاری رکھی۔ انہوں نے سیاسی قیدی کے طور پر پانچ سال سے زیادہ عرصہ اسیری میں بھی گزارا۔
اسلام پسندوں کی جماعت اخوان المسلمین کے اراکین پر حسنی مبارک کے دور میں پابندی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔
پابندیوں کا شکار مذکورہ جماعت نے2011 میں مرسی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور ساتھ ہی شرط بھی رکھی ایک فرد ایک وقت میں اپنی مرضی سے ایک جماعت کی رکنیت رکھ سکتا ہے(اخوان المسلمین یا فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی)۔
مئی 2012 میں مصرصدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوا جس میں محمد مرسیؒ اور ملک کے سابق صدر احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔جون 2012 میں مصر کے قومی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مرسیؒ نے 51.7 فیصد ووٹ لے کر سابق وزیر اعظم احمد شفیق کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔
اسی روز نومنتخب صدر محمد مرسیؒ نے التحریر اسکوائر پر لاکھوں کے مجمعے میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ صرف مصری عوام کے صدر ہیں۔انہوں نے20 جون 2012 کو مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
جون 2013 میں اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر تحریر سکوائر اور مصر کے دیگر شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے، جس میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔
مصری فوج نے یکم جولائی 2013 کو مرسیؒ کو پیغام بھجوایا کہ 48 گھنٹوں میں عوامی مطالبات پورے کریں بصورت دیگر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا، جسے مصر کی پہلی جمہوری حکومت نے نظر انداز کردیا۔
اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدرظالم و جابرعبدالفتاح السیسی(اللّٰہ کی لعنت ہو)  کی قیادت میں مصری فوج نےتین جولائی کو محمد مرسیؒ کو معزول کر کے جیل میں ڈال دیا۔انھیں ایک خفیہ مقام پر زیرِ حراست رکھا گیا۔محمد مرسیؒ کے حامیوں نے مصر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مرسیؒ اور 132 دوسرے افراد پر 2011 میں جیل توڑنے، ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعے مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں مقدمات بنائے گئے۔
اپریل 2014 میں عدالت نے مرسیؒ کو 2012 میں صدارتی محل کے باہر اشتعال انگیزی پھیلانے اور فسادات کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی۔
مصر کی ایک عدالت نے مئی 2015 میں مرسیؒ کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سابق صدر پر الزام تھا کہ انھوں نے ودی نترون نامی جیل میں اسیری کے دوران غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو رہا کرانے کی سازش تیار کی اور 2011 میں جیل توڑ کر فرار ہوئے۔
عدالت نے انہیں جاسوسی کے الزامات کے تحت عمر قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔ محمد مرسیؒ نے سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کی جسے مسترد کردیا گیا۔
مرسیؒ پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15 سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔
تین سال قبل 15 نومبر 2016 کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسیؒ کو سنائی جانے والی موت کی سزا کو ختم کر دیا ہے تھا لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخری دم تک زیر التوا رہے۔
مقدمے کی پہلی سماعت پر کٹہرے میں کھڑے محد مرسیؒ نے نہ صرف چیخ چیخ کر کہا تھا کہ انھیں ’فوجی بغاوت‘ کا شکار کیا گیا ہے بلکہ انھوں نے اس عدالت کو ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ان کا کہنا تھا ’ملک کے آئین کے مطابق میں جمہوریہ کا صدر ہوں اور مجھے زبردستی قید کیا گیا ہے۔‘
مرسیؒ کو معزول کرنے کے فیصلے کے خلاف اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا اور انہوں نے قاہرہ میں 2 مقامات پر تقریباً ڈیڑھ ماہ تک دھرنے دیے تھے۔
ان دھرنوں کے خلاف مصری فورسز نے 14 اگست 2013ء کو سخت کریک ڈاؤن کیا تھا اور اخوان اور دوسری جماعتوں کے کم سے کم 1000  کارکنوں کو شہید کر دیا تھا۔
جیل چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لیے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہلخانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔
مصر میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسیؒ پیر کو قاہرہ کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج کے روبرو دلائل دے رہے تھے اسی وقت کمرۂ عدالت میں اچانک حرکت ِ قلب بند ہونے سے شہادت کے اعلی مقام پر کوچ کر گئے، ان کی عمر 67 سال تھی۔ بعد ازاں مصر کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی کہ ملک کے سابق صدر انتقال کر گئے۔
اخوان المسلمون نے محمد مرسیؒ کی موت کو ’مکمل طور پر قتل‘ قرار دیا ہے۔
مصر کے پہلے منتخب سابق صدر محمد مرسیؒ کو قاہرہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔محمد مرسی کی تدفین قاہرہ کے مشرقی علاقے مدینۃ النصر میں کی گئی۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق 67 سالہ محمد مرسیؒ کی موت گزشتہ روز حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی جب کہ دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے گروپس نے محمد مرسیؒ کی حراست میں موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ محمد مرسیؒ کو قید کے دوران صرف 3 بار اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں ان کے وکیل اور ڈاکٹر سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسیؒ کی موت کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے محمد مرسیؒ کی موت کا الزام مصر کے ’غاصبوں‘ پر عائد کیا ہے جبکہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد ال ثانی نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
فجر کے بعد قاہرہ کی بدنام زمانہ جیل ’’طرہ‘‘ کی مسجد میں شہید مرسیؒ کا جنازہ ادا ہوا۔
شرکاء میں صرف بیٹے، دو بھائی اور مرسیؒ کا وکیل عبد المنعم شامل تھے۔
شہید کی بیوہ، بیٹیوں اور صحافیوں سمیت کسی کو جنازے میں شرکت یا آخری دیدار کی اجازت نہیں دی گئی۔ ظالم نے یہ احسان ضرور کیا کہ مرسیؒ کے گرفتار صاحب زادے اسامہ کو جنازے اور تدفین میں شرکت کی اجازت دے دی۔ بعد ازاں مشرقی قاہرہ کے اس قبرستان میں سخت ترین پہرے میں جسد خاکی کی تدفین عمل میں آئی۔
ایک مجاہد و شہید کی صحبت و تربیت کا مظہر اور کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟ !!! کہ صدر مرسیؒ کی اہلیہ نجلاء (اُمّ احمد)  کے سنہرے حروف سے لکھے جانے والے جملےجو ان زبان مبارک سے نکلے: "میں میت کے لیے ظالموں کی منت کرکے اپنے شوھر کو شرمندہ نہیں کروں گی"
اسی قبرستان میں اخوان المسلمون کے تین سابق مرشد عام مدفون ہیں۔ مرسیؒ، سابق مرشد مہدی عاکف کے پہلو میں دفنائے گئے۔ مہدی کا جنازہ بھی 2017 میں جیل سے اٹھا تھا۔ اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کا جنازہ گھر کی خواتین نے اٹھایا تھا۔ والد کے علاوہ کسی کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ جب کہ نماز ان کے والد نے اکیلے پڑھی تھی۔ مہدی عاکف کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا تھا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی سنت اپنے عمل سے زندہ کرنے والے آج بھی موجود ہیں۔
 
 
(masoodkhan@
.media@gmail.com)

Tags:
Share:

Leave a Comment

Sajed Deshmukh
Nice post