Home Article !!!گستاخی معاف
Article

!!!گستاخی معاف

بچپن ابھی بوڑھا نہیں ہوا ہے ، تب ہی کی بات ہے کہ مسجدوں میں فوٹو نکالنا حرام کہا جاتا تھا اور ویڈیو کو مسجد میں داخلہ ممنوع تھا، اب دیکھا جا رہا ہے باضابطہ مساجد میں فوٹو لیے جاتے ہیں، ویڈیو بنائی جاتی ہے، فون میں لگے کیمرے سدا بیدار رہتے ہیں، زبانیں گنگ ہو گئیں ہیں۔ پہلے جو بات کہی جاتی تھی وہ صحیح تھی یا اب جو کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہے
مساجد میں دنیا کی بات کرنا جرم تھا، بابری مسجد کی بات بھی مسجد میں نہ ہونے دی جاتی تھی کیونکہ وہ سیاست کا مسئلہ تھا اور سیاست کی بات کرنا مساجد میں ممنوع تھا۔
لیکن اب جمعہ کے خطبے، علماء و ائمہ کے بیانات اور خصوصی اپیلیں، فہرست میں ناموں کا اندراج، ووٹ ڈالنے کی ترغیب، انفرادی و اجتماعی اجتہاد فرمائے جا رہے ہیں، فرض واجب، امانت و شہادت جیسی اصطلاحوں میں گفتگو سمجھائی جا رہی ہے، اس کے لیے بھی مساجد کے ممبر و محراب استعمال ہو رہے ہیں۔
گستاخی معاف! پہلے دانشوران، علماء و ائمہ صحیح فرماتے تھے یا آپ صحیح فرما رہے ہیں۔ اگر پہلے صحیح تھا اب غلط ہو رہا ہے اور اب صحیح ہے تو کیا پہلے غلط کہا جارہا تھا۔

Tags:
Share:

Leave a Comment