Home Article ازغلامی فطرت آزادرا رسوامکن
Article

ازغلامی فطرت آزادرا رسوامکن

جب کسی انسان کا معدہ خراب ہوجاتا ہے تو اس کو اچھی غذا پسند نہیں آتی جب کسی قوم کا مزاج بگڑجاتا ہے تو اس کو خود اپنی بھلائی کی بات بھی اچھی نہیں لگتی ۔انسانی فطرت ہی کچھ ایسی رہی ہے کہ جب کوئی قوم مسلسل کسی راستے پر چلتی رہتی ہے تو وہ اسی کی عادی اور اسی کی خوگر ہوجاتی ہے وہی اس کا مزاج بنجاتا ہے اور وہی اس کی فطرت میں ڈھل جاتا ہے اگرچہ وہ راستہ کتنا ہی تنگ اور غیر معقول ہو کتنا ہی پرخطر اور ہلاکت خیز ہو اور کتنا ہی ذلت اور رسوائی کی غلاظتوں سے پر اور متعفن ہو ۔ہزار دلائل سے اس راہ کی ضلالت و مضرت کو ثابت کردیجئے مگر کوئی دلیل اور کوئی حجت اس کےفکر و ذہن کو اپیل نہیں کرسکتی ۔ اس کے نزدیک اس راستے کی صحت و صواب کےلئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس نے اس راستہ پر اپنے خود ساختہ مقتداوں اور پیشواؤں کو چلتے دیکھا ہے ۔ پھر اس کو اس راہ سے ہٹانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ ہزار ٹھوکریں کھاکر اور ذلت اور رسوائی کے ہزار مراحل سے گزر کر بھی وہ اسی راستے پر چلتی رہتی ہے اور کسی صورت اس کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی اس کو ہر دوسرا راستہ خواہ وہ کتنا ہی فطرت سے ہم آہنگ اور عقل کے قریب ہو اور کتنا ہی صاف سیدھا اور محفوظ تر ہو ایک اجنبی اور غیر مانوس راستہ معلوم ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں جب بھی کوئی خدا کا بندہ اس بھٹکی ہوئی قوم کو سیدھا راستہ دکھانے کےلئے اٹھا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کو اجنبی نگاہوں سے دیکھا گیا ہے بلکہ اس کو اپنی قوم کی طرف سے شدید مزاحمت اور سخت منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
فرعون نے پوری قوم کو اپنا غلام بنا رکھا تھا خود کو خدا کہلواتا تھا ،موسی علیہ السلام قوم کو فرعون کی غلامی اور اس کے مظالم سے نجات دلاکر ایک خدا کی بندگی (مکمل انسانی آزادی) اور دائمی خیرو فلاح کی طرف بلارہے تھے مگر فرعون کے ظلم کی چکی میں پس رہی قوم نے موسی علیہ السلام کے ذریعہ دئیے جانے والے آزادی کے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کردیا جبکہ یہ عین اس کی فطرت کی آواز تھی ۔کیوں کہ اب وہ غلامی کے رنگ میں پوری طرح رنگ چکی تھی اور اب اس کے اندر غلامی کے سوا کسی دوسری بات کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی تھی ۔
اہل مکہ اپنی تمام تر معاشرتی خرابیوں کے باوجود ایک آزاد فطرت اور خوددار قوم تھے مگر ایک طویل عرصہ سے شرک کے راستے پر چلتے چلتے وہ اصنام پرستی (مخلوق کی غلامی) کے ایسے خوگر ہوچکے تھے کہ اب ان کا ضمیر اس کے خلاف کوئی بات سننے اور ماننے پر آمادہ نہ تھا ۔ پیغمر انقلاب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو ایک بڑے اور دائمی خطرہ (آخرت کے عذاب) سے آگاہ کیا اور ان کو شرک کے راستے کو چھوڑ کر توحید کی طرف آنے کی دعوت دی تو عین فطرت انسانی سے ہم آہنگ نبی کی اس صدا پر اہل مکہ کا رد عمل بالکل غیر فطری اور غیر انسانی تھا ۔۔ چنانچہ انہوں کہا ۔ تبا لک یا محمد الھذا جمعتنا ۔ تیرا ناس ہو اے محمد ( نعوذ باللہ)کیا تونے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا ۔ پیغمر کی یہ آواز ان کے لئے ایک اجنبی اور غیر مانوس آواز تھی ۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا ۔۔ اجعل الالہتہ الہ واحدا ان لشیء عجاب * وانطلق الملء منھم ان امشوا واصبروا علی آلہتکم ان ھذا لشیء یراد * ؛؛ یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ یہ شخص تمام خداوں سے ہٹاکر ایک ہی خدا پر جمع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ چلو اپنے اپنے معبودوں پر جمے رہو یہ تو کوئی منظم اور سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے ۔ انسانی تاریخ میں دنیا کی غلام قوموں کا ہمیشہ یہی طرز عمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔
ہندوستان پر صدیوں تک فرمانروائی کرنے والی مسلمان قوم بھی ایک زندہ اور غیرت مند قوم تھی مگر دوسو سال کی پہہم غلامی نےاس کے دل و دماغ اور فکر و ضمیر پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے اور اب اس کا مزاج اس قدر بگڑ چکا ہے اور اس کا ضمیر اس قدر مضمحل ہوچکا ہے کہ کفر کی جس غلامی سے نجات کے لئے اس کےاسلاف نے دو صدیوں تک انگریز کے خلاف شدید جنگ لڑی تھی اور باطل کے جس نظام سے چھٹکارے کےلئے انہوں نے جان و مال کی بے مثال قربانیاں دی تھیں آج یہ قوم اسی کفر کی غلامی پر فخر کررہی ہے اور باطل کے اسی نظام کی محکومیت کو آزادیٔ اسلام کا نام دے رہی ہے ۔اب جمہوریت پر اس کا کامل ایمان ہے اب سیکولرازم اس کا پختہ عقیدہ ہے اب خلافت اسلامیہ کا نظریہ اس کے نزدیک ایک باطل نظریہ ہے اب اسلامی نظام اس کے نزدیک ایک ناپسندیدہ نظام ہے ۔اب اظہار علی الدین کلہ ۔ کے کوئی حقیقی معنی نہیں اب سورہ انفال اور سورہ توبہ کی کوئی عملی تفسیر نہیں ۔ اب تجارت و معیشت کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ۔ اب سیاست و حکومت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔اب اسلام کا ہر وہ حکم جو اس کی ہم وطن غیر مسلم اقوام کی طبیعتوں کو ناپسند اور گراں بار ہو اس کے نزدیک منسوخ ہوچکا ہے اور اب اس کا نام لینا بھی اس کے نزدیک کسی جرم سے کم نہیں ہے ۔۔
یہ اس قوم کی صورت حال ہے جس نے بحیثیت مسلمان اس ملک پر قریب آٹھ سو برس تک حکمرانی کی ہے اور آج اس کے طرز حیات کو سامنے رکھ کر اسلام کی تھوڑی بھی فہم رکھنے والا ایک شخص یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آج یہ قوم اپنے کردار و عمل سے جس اسلام کی ترجمانی کررہی ہے کیا یہ وہی اسلام ہے جو قرآن و سنت کی شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکر گئے ہیں ،کیا یہ وہی اسلام ہے جو صحابہ تابعین تبع تابعین اکابر امت اور اس کے اسلاف کے ذریعہ اس تک پہنچا ہے ؟اس قوم کے حالات زندگی کو سامنے رکھ کر تاریخ آزادی ہند کا مطالعہ کرنے والا ایک شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے ،کہ کیا یہی وہ آزادی ہے جس کے حصول کی خاطر ہمارے اسلاف نے انگریز کے خلاف قریب دوسو سال تک جنگ لڑی تھی ؟؟وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہاہے کہ آخر انگریز کی غلامی اور موجودہ آزادی کے درمیان وہ کونسی امتیازی حدود تھیں جنہیں ڈھانے کےلئے ہمارے اکابر نے سخت ترین جدوجہد کی تھی اور قید و بند کی ہولناک صعوبتیں برداشت کی تھیں ؟؟وہ سمجھ ہی نہیں پارہا ہے کہ آخر وہ کیا مقاصد تھے کہ جن کے حصول کی خاطر ان بزرگوں نے انگریز کے خلاف ٹکراو اور تصادم کی راہ اختیار کی تھی اور بے شمار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔اس کے ذہن کے اندر یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ جن مقاصد کے لئے جنگ آزادی لڑی گئی تھی وہ کس حد تک حاصل ہوئے ؟؟ یا پھر وہ حاصل ہوئے بھی یا نہیں ؟ وہ تشکیک کا شکار ہے کہ اس کے بزرگوں کا انگریز کے خلاف جنگ و جدل کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط ؟
جس انسان کے فکر و ذہن کے اندر زندگی کی کوئی حرارت موجود ہے اس کے لئے یقینا یہ زندہ سوالات ہوسکتے ہیں ۔مگر اب اس زوال یافتہ اور محکوم قوم کے نزدیک ان سوالات کی کوئی اہمیت نہیں ۔اب اسلاف کی تابناک تاریخ میں اس کے لئے روشنی کی کوئی کرن موجود نہیں ۔ اب اس کے بزرگوں کی وہ عظیم تاریخ اس کے لئے ایک داستان پارینہ بن چکی ہے ۔ اب ان سوالات پر گفتگو کرنے والا گنہگار ہے اب اسلاف کی سیرت پر بات کرنے والا مجرم ہے ۔اب غلامی کے مزاج میں پختہ تر کردینے والے نام نہاد رہنما اس کے پسندیدہ ہیرو ہیں اب غلامی کے پنجرے میں قومی تعمیر کی باتیں کرنے والے خودساختہ قائدین اس کے محبوب ترین مسیحا ہیں ۔یہ ہے ملت اسلامیہ ہند کی وہ نازک صورتحال جس میں بڑے بڑے ارباب علم و دانش اور بڑے بڑے اصحاب فکر و فہم بھی میدان عمل میں اتر نے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم ایسے نازک حالات میں کیا کرسکتے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہئیے ۔تو ہمیں سب سے پہلے اس کائنات میں بکھرے ہوئے ان پوشیدہ امکانات پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے جو ہر عسر میں یسر کی طرف رہنمائی کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور فساد میں ہمیشہ کچھ ایسے سلیم الفطرت افراد پائے جاتے رہے ہیں جن کے اندر حق اور سچائی کو جاننے سمجھنے اور اس کو قبول کرنے صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔یہی نفوس صالحہ اپنے وجود سے تاریکیوں کے پردوں کو چاک کرتے ہیں اور کسی نئی صبح کی نوید ثابت ہوتے ہیں ۔اور گاہے گاہے سہی لیکن بہرحال اس امت کےاندر بھی ابھی ایسے پاک طینت اور صالح طبیعت افراد موجود ہیں جو اس قوم کے موجودہ حالات پر فکر مند ہیں اور جن کے سینے کے اندر ایک کڑھن اور ایک بےچینی کا احساس پایا جاتا ہے ۔ہم انہیں منتشر نفوس کو آواز دینا چاہتے ہیں کہ وہ خدا کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرکے پردہ خفا سے باہر آئیں ۔ باہم مربوط ہوں ۔ ایک جگہ جمع ہوں ۔ حالات کے اشارات اور مضمرات کو سمجھیں ۔ اور ملت کی تعمیر نو کے لئے کوئی صحیح اور موثر لائحہ عمل طے کریں کہ یہی حالات کا تقاضا اور یہی وقت کی پکار ہے ۔

تحریر
محمد ہارون قاسمی ، (بلند شہر )
فون ، 9412658062

Share:

Leave a Comment

Recent Blogs