Home Article رمضان المبارک
Article

رمضان المبارک

قابل احترام بھائیو ں اوربہنوں!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
امید کے مزاجِ گرامی بخیر ہوگا۔ رضائے الٰہی کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہوں گے۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہونے جا رہا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ شعبان سے ہی اس کی تیاری کا آغاز فرماتے تھے اور لوگوں کو بیدار کرتے تھے۔ اس مہینہ سے استفادہ کے لئے آپ ﷺ کی کئی احادیث ہمیں ملتی ہیں۔
امیر محترم (وحدت اسلامی ہند)مولانا عطاء الرحمن وجدی ؔ نے مشاورت کے بعد مندرجہ ذیل امور کی جانب توجہ دلائی ہے، جو رمضان المبارک سے متعلق ہیں۔ اس سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہوں۔ رمضان المبارک ماہ نزولِ قرآن ہے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، جو جامع ہدایت و رہنمائی ہے۔ اللہ سے قربت کا سب سے بہترین ذریعہ اور اس کے ذکر کا آسان طریقہ ہے ۔ اس ماہ تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام فرمائیں۔ کوشش کریں کہ کم از کم ایک مرتبہ مع ترجمہ مکمل ہو جائے۔
٭ قرآن سے استفادہ کی یوں تو بہت سی شکلیں ہیں جیسے ہفت روزہ دروس، ماہوار اجتماعی مطالعہ قرآن، تجوید و عربی زبان کی کلاسیز۔ لیکن رمضان المبارک میں اسے خاص توجہ و اہتمام سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ بالخصوص آخری عشرہ میں اجتماعی مطالعہ کا نظم ہر مقام پر کریں۔ اس بار پورے رمضان میں خصوصی مطالعہ کے لئے ’’سورۃ الحجرات ‘‘ و ’’سورۃ الحشر‘‘ خاص کی گئی ہے۔ ہر بھائی ؍بہن کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس نصابِ رمضان کو مختلف تفاسیر و معتبر علماء کی رہنمائی میں مکمل کر لیں ۔ اجتماعی مطالعہ قرآن کے لئے اس سورۃ میں سے ضرورت و حالات کے پیش نظر آیات کا انتخاب کرلیں۔ جہاں ممکن ہو بعد نمازِ تراویح خلاصہ آیات پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
٭ رمضان المبارک کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے جائیں۔ اس میں راتوں کا اٹھنا اور قیام کرنا بندے کے لئے مغفرت و نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ کوشش کریں کہ قیام لیل کا اہتمام ہو۔ اللہ کے حضور گریہ و زاری ،مناجات و دعاؤں کا ،اپنے لئے، اپنوں کے لئے ،تحریک کے لئے، تحریکاتِ اسلامی کے لئے، اُمت مسلمہ کے لئے ،بالخصوص مظلومین کے لئے خوب اہتمام فرمائیں۔
٭ رمضان المبارک ہمیں دوسروں کی ضروریات کا احساس دلاتا ہے، لیکن انسانوں کی بڑی تعداد ان چیزوں سے محروم زندگی گزارتی ہے۔ ان کا پاس و خیال رکھنا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرناہے۔ کبھی زکوٰۃ کی مد سے تو کبھی انفاق فی سبیل اللہ کی دیگر مدات سے،کبھی میٹھے بول کے ذریعے تو کبھی ہمدردی، حسنِ سلوک کے ذریعے۔ بالخصوص ان لوگوں کو اور ان کے خاندانوں اور رشتے داروں کا خاص خیال رکھیں جنہیں وقت کے نظام نے اسیری و بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔قرآن کریم میں گردنوں کو چھڑانے کی مد کا خاص ذکر کیا ہے۔
٭ امت میں رمضان المبارک سے استفادہ کے احساس کو بیدار کرنے کے لئے رمضان سے قبل ’’استقبال رمضان‘‘ کے پروگرام کئے جا سکتے ہیں، احادیث پر مبنی ہورڈنگس لگائی جا سکتی ہیں، فولڈر، پمفلٹ وغیرہ تقسیم کئے جا سکتے ہیں جس میں تعلق باللہ، استقامت اور انفاق پر اُمّت کو متوجہ کیا جا سکے۔
٭ ملکی و عالمی تبدیلیوں کے افق سے روز بروز اندیشوں کا ایک طوفان اُمڈ رہا ہے۔ کہیں اس کا ادراک ہی نہیں ہے تو کہیں خوف و مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ ان حالات میں تاریخ اسلامی کے روشن ابواب یوم الفرقان (17؍رمضان المبارک) یوم الفتح (فتح مکہ ،20رمضان المبارک) پر خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں تاکہ امّت مظلوم کے اندر ہمت و حوصلوں کی آبیاری ہو سکے۔
٭ ذاتی تربیت کا انتہائی مفید و روحانی طریقہ اعتکاف ہے۔ اس کے لئے پہلے سے وقت فارغ کرکے اس سے استفادہ کریں۔
٭ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ، اذکار مسنونہ، بالخصوص استغفار کی کثرت کو معمول بنائیں۔

والسلام 
ضیاء الدین صدیقی
معتمد عمومی، وحدتِ اسلامی

Tags:
Share:

Leave a Comment

areeb hafeezkhan
Masha Allah

Sajed Deshmukh
Alhamdulillah nice article