Home Article ۔۔۔ نظام باطل میں ! کیا ’’ووٹ‘‘ واقعی ’’شہادت ‘‘ہے۔؟ ۔۔۔۔
Article

۔۔۔ نظام باطل میں ! کیا ’’ووٹ‘‘ واقعی ’’شہادت ‘‘ہے۔؟ ۔۔۔۔

ملک میں الیکشن کی گہما گہمی ہے۔۲۰۱۹ء کے الیکشن کی اہمیت بہت زیادہ بتا کر مسلمانوں کو بی جے پی کا خوف دلایا جارہا ہےاور ان سے کہا جارہا ہے کہ ووٹ ضرور ڈالیں۔سیکولرزم اور جمہوریت کو بچانے کے لیےوہ میدان عمل میں کود پڑیں۔ ووٹ کو ’شہادت‘ کی حیثیت دی جارہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ’شہادت علی الناس‘ کا فریضہ اسی سے ادا ہوجائے گا۔ووٹ دینا ’’بھارت کی اسلامی شریعت ‘‘میں فرض قرار دے دیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ووٹ دینا اگر ’شہادت‘ یا’ گواہی‘ ہے تو کس طرح کی گواہی دینےکی بات اسلام کرتا ہے ؛ جھوٹی یا سچی؟ایک طرف تو یہ بات تقریبا ہر کوئی مانتا ہے کہ بھارت میں سارے نیتا کرپٹ ہیں الا ماشاء اللہ اور دوسری طرف ووٹ کو شرعی فریضہ قرار دے کر ان ہی کرپٹ لیڈران کو منتخب کرنے کی بات بھی کی جاتی ہے۔یعنی کرپٹ لوگوں میں سے کسی ایک کو ووٹ دو لیکن ووٹ ضرور دو۔اب ایک عام مسلمان بھی یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ جھوٹے لوگوں کے بارے میں یہ گواہی دینا کہ وہ سچا اور امانت دارآدمی یا نیتا و لیڈرہے ،خود ایک جھوٹی گواہی ہے۔اور اگر ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سچا یا امانت دار ہے تو جھوٹے یاکرپٹ لوگوں کو منتخب کرکے ہم کیسے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ غیر جانب دارانہ یا منصفانہ سیاست کریں گے؟!!!ہمیں ٹھہر کر سوچنا چاہئے کہ آخر کرپٹ لوگوں کو چُن کرہم بھارتی سیاست کو صحیح رُخ پر کیسے لاسکتے ہیں؟؟؟ووٹ کو اگر شرعی فریضہ مان بھی لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز اور روزہ یا فرائض میں اس کی حیثیت کچھ کم ہے؟
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کچھ شرائط اور حدود و قیود بھی ہیں یا ہر طرح کی قید سے آزاد ہوکر ووٹ دینا فرض ہے؟مثلا نماز فرض ہے تو اس کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں یا جو چاہے جیسے چاہےنماز پڑھ لے۔ پاک ہو یا ناپاک ہو،ساتر ہو یا غیر ساتر ہو، امام مسلم ہو یا کسی کافر کو ہی امام بنا لیاگیا ہو اور جدھر چاہے رخ کرلیا گیا ہو وغیرہ وغیرہ؟ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہماری شرکت اگر موجودہ اسمبلی یا پارلیامنٹ میں نہیں ہوگی تو ملت اسلامیہ ایک شدید نقصان سے دوچار ہوگی، یہاں تک کہ انہیں اپنے ایمان اور جان، مال ، عزت ،آبرو سب سےہاتھ دھونا پڑے گا؟ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک پارلیامنٹ یا اسمبلی میں جب مسلمان زیادہ تھے تو کیا انہوں نے فسادات کو رکوالیا تھا یا مسلمانوں کے کتنے مسائل حل کردیے تھے۔ ہمیں اس پہلو سے غور کرنا چاہیے کہ قریش کی ’دارالندوہ ‘میں مسلمانوں کی شرکت کے لیے رسول اکرم ﷺ نے کوئی پلاننگ کی تھی کیا؟؟؟ 
ہم کس فرد یا کس پارٹی کو ووٹ دیں ؟ آخر یہ شرعی مسئلہ کیسے ہو سکتاہے؟ جس پر ہمارے علماءفتوے دے رہے ہیں،الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ پکڑنے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے جب کہ اس ملک کے ذرے ذرے میں فرقہ پرستی بھری ہوئی ہے ۔کیا اس فرقہ پرستی کی ذمہ دار یہاں کی سیاسی پارٹیاں نہیں ہیں؟کیاکانگریس یا سماج وادی پارٹی یا دوسری سیاسی پارٹیاں فرقہ وارانہ سیاست نہیں کرتیں ؟بابری مسجد میں تالا لگوانا ، پھر تالاکھلوانےسے لیکر بابری مسجدکی شہادت تک تمام مراحل کو ’سیکولر‘کانگریس نے ہی طے کیا،ٹادااور پوٹاجیسے قوانین (جس کا شکار صرف مسلمان ہوئے )کانگریس کی ہی دَین ہے،مظفر نگر فسادات ’ملا ملائم ‘کی سیکولر دور حکمرانی ہی کے تحفے ہیں۔ان تمام کے باوجود ان کے سیکولرزم پر کوئی فرق نہیں پڑتا ،ہماری دینی و ملی جماعتیں آج بھی ان کے سیکولرہونے پرایمان رکھتی ہیں۔
کیاصرف ووٹ دے کر مسلمانوں کے مسائل حل ہوجائیں گے؟مسلم سیاسی پارٹیاں یا افراد Common Minimum Agendaطے کرکے کچھ نکات پر متفق کیسے ہوں؟ایک ہی مقام سے کئی کئی مسلم امیدوار کھڑے نہ ہوں؟آخر ووٹ ڈالنے کا فتویٰ دینے والے حضرات اس کی کوششیں کیوں نہیں کرتے؟شاید اس لئے نہیں کرتے کیوں کہ فتویٰ دے کر ان کا مقصد کچھ پارٹیوں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔عام حالات میں تو ہم سارے انسانوں کے لیے کام کرنا چاہتے ہیںاور انسانیت انسانیت کی تسبیح پڑھتے ہیں لیکن الیکشن آتے ہی ہم ہندو مسلم یا بی جے پی و غیر بی جے پی کیوں شروع کردیتے ہیں؟ الگ الگ پارٹیوں کو ووٹ دینے کی وجہ سے ایک محلہ یا شہر میں مسلمان خود اس طرح لڑ پڑتے ہیں جیسے کہ ان کی ازلی دشمنی ہو،آخر ہمارے علماءو دانشوران اس کی کوشش کیوں نہیں کرتے کہ مسلمانوں میں اس طرح کی دشمنی پیدا نہ ہونے پائے۔بعض دفعہ تو یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ علماءو دانشوران ہی اس نفرت کا حصہ بن جاتے ہیں۔مسلم سیاسی پارٹیاں تو دور مسلم تنظیمیں بھی اس طرح کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر رہتی ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد وجود اور امت مسلمہ کے اصل فرض منصبی سے غافل ہوگئے ہیں ، اسلام کے اصولِ عروج و زوال ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، پاکیزہ اور منصفانہ سیاست کے اصول و مبادی سےہم واقف نہیں ہیں یا کم واقف ہیں۔یاد رکھیے ہم اپنے فرض منصبی ’شہادت علی الناس‘ کو طاق پر رکھ کر دنیا میں کامیابی و کامرانی کی منزل کو نہیں پہنچ سکتے اور جنت کا حصول تو ناممکن ہے۔ جتنی محنتیں اور طاقتیں ہم اپنےمال و دولت کوبچانے اور بڑھانے کےچکر میں الیکشن میں حصہ لینے یا ووٹ دینے کے لئے صرف کرتے ہیں ۔۔۔کاش ہم اتنی محنت اللہ کے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے کر پاتے!!! اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

(زیر نظر مضمون ماہنامہ ’’نقوش راہ ‘‘کے اداریے سے نقل کیا گیا ہے۔)

Tags:
Share:

Leave a Comment