Home Campaign کیا تمام دہشت گرد ’’مسلمان ‘‘ہی ہوتے ہیں؟
Campaign

کیا تمام دہشت گرد ’’مسلمان ‘‘ہی ہوتے ہیں؟

عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 3شہروں کے گرجا گھروں میں اور 3 ہوٹلوں میں 8 بم بلاسٹ ہوئے جن میں حالیہ خبروں کے مطابق 321 جانیں گئیں ہے اور 400 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں ۔ حادثے کے خاتمے پر فوری مسلمانوں کی ایک جماعت جو غیر معروف ہے ’’نیشنل توحید جماعت ‘‘کا نام سرخیوں میں آچکا ہے ۔ بھارت کے ایجنسیوںنے تو اصل ماسٹر مائنڈ کا نام بھی اپنے خبروں میں شائع کر دیا ہے ،جبکہ سری لنکا کی حکومت نے کسی شخص کا نام لیا ہے اور نہ کسی جماعت اور تنظیم کا ۔ظاہر کی گئی خبروں میں ایک بدھسٹ کو برقعہ میں پکڑا گیا جس کی کمر پر بم بندھے ہوئے تھے ، کیا یہ شدت پسند بدھسٹوںکی کوئی کاروائی ہے ؟ جس میں عیسائیوں کو نشانہ بنانا اور الزام مسلمانوں کے سر دھردینا جیسی کوئی بات ہے ، بھارت میں بھی مالیگاؤں بلاسٹ ،اجمیردرگاہ بلاسٹ ،سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ ،جالنہ کی مسجد میں ہوئے بلاسٹ میں ’’دہشت گرد ‘‘ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے ،لیکن گرفتاریاں ساری جگہوں پر مسلمانوں کی ہی ہوئی جبکہ نقلی داڑھیاں، ٹوپیاں وغیرہ بھی پولیسی گرفت میں آئیں ہے ،لیکن یہ راز بھی بڑی دیر سے کھلا جبکہ ہیمنت کرکرے نے اپنی تفتیشی کارروائی میں ’’ہندو آتنکواد ‘‘کے چہرے کو بے نقاب کیا۔ دنیا میں 376 گروپس ہے جو دہشت گردی کی راہ کو اپنائے ہوئے ہے ان میں سے جو مسلمان شدت پسند گروپس ہے ان کی تعداد صرف 76 ہے۔

Share:

Leave a Comment

Recent Blogs