Home Campaign حکومت کیا چاہتی ہے؟ NRC
Campaign

حکومت کیا چاہتی ہے؟ NRC

نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز NRC اصل میں آسام میں بنگلہ بولنے والوں کو غیرملکی ثابت کرنے کے لیے بنوایا گیا تھا، اس رجسٹر میں 40 لاکھ سے زائد ایسے افراد کے نام درج کیے گئے ہیں جنہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہے۔
۔NRC کو پورے ملک کے لئے لاگو کرنے کا اشارہ پہلے ہی حکومت نے دے دیاہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر شہری کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ملک کا شہری ہے، اس کے دستاویزات اس کی شہریت کے ثبوت ہوں گے۔ اسام میں بنگلہ زبان بولنے والوں کی زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے، انہیں بنگلہ دیش کے نام پر شہریت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جو ہندو ہے انہیں "شرنارتھی" کہہ کر ملک کی شہریت دے دی جائیگی جبکہ مسلمانوں کو بنگلہ دیش زبردستی واپس بھجوایا جائے گا، NRC کچھ اسی طرح سے لانے کی کوشش کی جا رہی، ایسی ہی ایک حرکت ایل۔ کے۔ ایڈوانی کے زمانے میں بھی ہوئی تھی، ایک ٹرین بنگلہ زبان بولنے والے مسلمانوں سے بھری بنگلہ دیش کی جانب روانہ کی گئی تھی، لیکن بنگلہ دیش نے انہیں اپنے شہری کی حیثیت سے قبول نہ کیا اور وہ منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ 
موجودہ حکومت بڑی سرگرمی سے NRC کو سپریم کورٹ کے ذریعے لاگو کرنے میں عجلت پسندی سے کام لے رہی ہے، 31 اگست، 2019 کو سپریم کورٹ NRC کے ناموں کو حتمی شکل دینے جا رہا ہے۔ 2014 اور 2019 کے عام انتخابات کو دیکھا جائے تو "مسلم مکت سیاست" کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسی ضمن میں NRC کے ذریعے "مسلم مکت بھارت" کا منصوبہ بنایا جارہا ہے اور یہ عمل نہایت خاموشی سے جاری ہے۔ برما میں برمی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے انہیں غیر ملکی قرار دے دیا تھا۔ اسام میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے اور ممکن ہے پورے ملک کو اس عذاب سے دوچار ہونا پڑے۔ اس لیے دستاویزات کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے، اپنے آدھارکارڈ، الیکشن کارڈ، PAN کارڈ، اکاونٹس بک، اسکول، کالج و یونیورسٹی کے دستاویزات کو کو اپڈیٹ رکھیں۔ ناموں اور اس کی اسپیلنگ کا کریکشن ضرور کروالیں۔ بالخصوص بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ، ان کے والدین کے دستاویزات ٹھیک کرنے ضروری ہے۔
ملک کے حالات جس سمت جا رہے ہیں شاید ڈاکٹر ذاکر حسین، فخرالدین علی احمد، مولانا ابوالکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمود الحسن گنگوہی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خان، مرزا غالب و ذوق سے بھی ان کی شہریت کے ثبوت مانگے جائیں گے اور نہ ملنے پر ان کی قبروں کو بھی غیر ملکی قرار دے دیا جائے گا

 

Tags:
Share:

Leave a Comment